Urdu book · اسفارِ ہند

ناگپور کا سفر

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

رجحان میں ایک کیفی تغیر (sea change in attitudes) سے تعبیر کیا ہے (صفحہ ۴م) میں نے کہا کہ آپ لوگ چونکہ قرآنی تعلیمات کے بجائے عوامی رجحان کو دیکھتے رہے ہیں۔ اس لیے اب عوامی رجحان میں اس تبدیلی کے بعد آپ کو چاہیے کہ اپنے آپ کو بھی اس کے مطابق تبدیل کر لیں ۔ ایک صاحب نے کہا کہ فلاں بزرگ بھی آپ ہی کی طرح تقریر و تحریر کے ذریعہ دعوت و اصلاح کا کام کر رہے ہیں۔ مگر وہ تنقید نہیں کرتے۔ اگر وہ تنقید کے بغیر اپنا کام کر سکتے ہیں تو آپ تنقید کے بغیر کیوں نہیں کر سکتے۔ میں نے کہا کہ یہ سادہ بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ تنقید نہ کرنے کے لیے تضاد میں جینا پڑتا ہے۔ مگر میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں تضاد میں نہیں جی سکتا، آپ نے جن صاحب کا نام لیا، ان کا مسلک یہ ہے کہ وہ حاضرین کے مزاج کی رعایت کرتے ہوئے بولتے ہیں۔ اس لیے تنقید ان کی ضرورت نہیں۔ مگر میرا معاملہ یہ ہے کہ تنقید میری ضرورت ہے۔ کیوں کہ تضاد میں جینا میرے لیے ممکن نہیں۔ مثلاً اگر آپ ایک طرف دعوت کی بات کریں ۔ دوسری طرف مسلمان غیر مسلموں کے جلوس پر روک ٹوک کر کے باہمی منافرت کی صورت پیدا کریں تو وہاں آپ مسلمانوں کی حمایت کرنے لگیں ۔ یہ میرے نزدیک تضاد میں جینا ہے۔ کیونکہ دعوتی عمل کو زندہ کرنے کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے کہ مدعو کی زیادتیوں پر صبر کیا جائے تاکہ وہ معتدل فضا پیدا ہو جس میں دعوت کا عمل جاری ہو سکے ۔ جس آدمی کا مسلک یہ ہو کہ ہر حلقہ اس سے خوش رہے ۔ اس کی یہ ضرورت نہیں کہ وہ مسلمانوں کے مشتعل ہو جانے پر انہیں نصیحت کرے۔ مگر جب آدمی کے سامنے صرف دعوت کا مسئلہ ہو اس کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو یک طرفہ صبر کی تلقین کرے ۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں آپ کی تحریک سے متفق ہوں۔ آپ اپنی تحریک علم بالقلم کے اصول پر چلا رہے ہیں۔ مگر آپ خود کہتے ہیں کہ اب میرا وقت قریب آگیا، جب کہ ابھی بہت زیادہ کام باقی ہے۔ پھر آپ کے بعد کون سا قلم" ہوگا جو اس تحریک کو مزید جاری رکھے ۔ میں نے کہا کہ کسی بھی تحریک کو چلانے والا یا جاری رکھنے والا صرف اللہ ہے۔ تاہم جہاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page