Urdu book · اسفارِ ہند

ناگپور کا سفر

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

تک انسانی تدبیر کا تعلق ہے تو میں عرض کروں گا کہ الرسالہ کے آغاز (۱۹۶۶) سے میرا اصول ہے کہ ہر مہینہ میں تقریبا دو پرچہ کے مضامین تیار کرتا ہوں۔ ایک پرچہ کا مضمون الرسالہ میں شائع ہوتا ہے، اور ایک پرچہ کا مضمون ہر ماہ چھپ جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میری زندگی میں الرسالہ جتنے سال نکلے گا، میرے بعد بھی کم از کم اتنے ہی سال تک الرسالہ مزید اسی طرح نکلتا رہے گا۔ اس طرح میری موت کے بعد بھی انشاء اللہ تعلیم بالتعلم کا سلسلہ منقطع نہ ہوگا۔ ایسی حالت میں آپ کو اس قسم کا اندیشہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ محمد حنیف صاحب اور محمد اسماعیل صاحب دونوں تاجر ہیں اور دونوں برسوں سے ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ ان میں تقریباً ہر روزانہ ملاقات ہوتی ہے۔ ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔ میں نے پوچھا کہ آپ دونوں کو چونکہ دیر پا دوستی کا تجربہ ہے، آپ یہ بتائیں کہ دوستی کو دیر تک باقی رکھنے کا راز کیا ہے۔ محمد حنیف صاحب نے کہا کہ کوئی مادی غرض نہ رکھنا۔ یہ بات مجھے پسند آئی۔ دوستی کے ساتھ غرض شامل کی جائے تو دوستی ٹوٹ جاتی ہے ۔ دوستی کو غرض سے پاک رکھا جائے تو دوستی باقی رہتی ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں نے ہندوستان ٹائمس (۱۹ اکتوبر ۱۹۹۲) میں یہ خبر پڑھی کہ آپ دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے جلسہ میں شریک ہوئے اور اس میں تقریر کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے بھی آپ کا تعلق ہے ، حالانکہ بھارتیہ جنتا پارٹی تو مسلمانوں کی دشمن سمجھی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ مشہور انقلابی نیتا سبھاش چندر بوس ۱۹۴۰ میں ناگپور آئے تھے اور یہاں انھوں نے آر ایس ایس کے بانی ڈاکٹر کیشو راؤ بلی رام ہیڈ گیوار سے ملاقات کی تھی۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ سبھاش چندر بوس آر ایس ایس کے ممبر تھے۔ اصل یہ ہے کہ سبھاش چندر بوس کا ایک سیاسی مشن تھا۔ اس مشن کے لیے انھوں نے ہندوستان کے اندر اور ہندوستان کے باہر بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ اسی طرح انھوں نے ڈاکٹر ہیڈ گیوار سے بھی ملاقات کی ۔ وہ ڈاکٹر ہیڈ گیوار تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے ملے تھے نہ کہ ڈاکٹر ہیڈ گیوار سے ان کا پیغام لینے کے لیے۔ میرا بھی ایک مشن ہے۔ اور وہ توحید ہے۔ اس کے لیے میں ہر گروہ کے پاس جاتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page