ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوں ۔ تاکہ حسب حالات انھیں اپنا پیغام دوں اور اسی کے ساتھ یہ کوشش کر دوں کہ باہمی نفرت اور بدگمانی ختم ہو اور دعوت کے حق میں موافق فضا پیدا ہو سکے۔ یہ کام میں مسلسل طور پر ہندوستان کے اندر بھی کر رہا ہوں اور ہندوستان کے باہر بھی۔ میں جہاں بھی جاتا ہوں ، خود اپنا پیغام دوسروں کو دینے کے لیے جاتا ہوں نہ کہ دوسروں سے ان کا پیغام لینے کے لیے ۔ الرسالتن کے سلسلہ میں کچھ لوگوں نے یہ اعتراض کیا کہ اس میں ہمیشہ صبر کی تلقین کی جاتی ہے جو بے غیرتی کی بات ہے ۔ میں نے کہا کہ اس اعتراض پر غور کرتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ صبر و اعراض کی جس پالیسی کو ہم غیر مسلموں کے سلسلہ میں اختیار کر کے نے کی تلقین کرتے ہیں ، اسی صبر و اعراض کو تبلیغی جماعت مسلمانوں کے سلسلہ میں عملاً بہت بڑے پیمانہ پر اختیار کیے ہوئے ہے ۔ اس کے باوجود تبلیغی جماعت کے بارہ میں کوئی شخص یہ نہیں کہتا کہ وہ مسلمانوں کو بزدلی سکھاتی ہے ، جبکہ ہمارے اور پر تمام معترضین یہی الزام عائد کر رہے ہیں۔ اس فرق کے پیچھے ایک گہرا سبب چھپا ہوا ہے۔ وہ یہ کہ تبلیغی جماعت قوم خویش کے مقابلہ میں صبر و اعراض کی تلقین کرتی ہے ، جب کہ ہم قوم غیر کے مقابلہ میں صبر و اعراض کی تلقین کر رہے ہیں۔ اپنی قوم کے مقابلہ میں صبر و اعراض لوگوں کو درست معلوم ہوتا ہے مگر جب معاملہ دوسری قوم کا ہو تو اس کو وہ عزت و وقار کا مسئلہ بنا لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کو تبلیغی جماعت سے شکایت نہیں مگر ہم سے انھیں زبردست شکایت ہے ۔ ایک صاحب نے الرسالی کے تنقیدی اسلوب پر اعتراض کیا۔ میں نے کہا کہ آپ کا اعتراض صحیح نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے مشرکین کے سامنے تنقیدی انداز میں دعوت پیش کی ( سیرة ابن ہشام ۱/ ۷۹ - ۲۷۵) صحابہ کرام کے درمیان عام طور پر تنقید کا رواج تھا۔ بعد کے دور میں بھی علماء میں اس کا مسلسل رواج رہا۔ مثلاً امام محمد اور امام ابویوسف نے اپنے استاد امام ابو حنیفہ پر ۱۸۲ مسائل میں تنقید کی۔ ایسی حالت میں کیا وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے لوگ تنقید کو برا سمجھتے ہیں ۔ اس کی وجہ لوگوں کا بگڑا ہوا مزاج ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اکابر پرست قوم بن گئے ہیں۔ اس بنا پر وہ شخصیتوں کے خلاف تنقید کو برداشت نہیں کر پاتے ۔ یہ بگڑے ہوئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader