ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
مزاج کا معاملہ ہے نہ کہ کسی واقعی اصول کا معاملہ۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ اکثر لکھتے رہتے ہیں کہ موجودہ دور میں مسلم رہنما کوئی حقیقی دینی کام نہ کر سکے۔ یہ تو مسلمانوں کی پوری جدید تاریخ پر پانی پھیر دینا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ صرف میری بات نہیں۔ آپ کے محبوب شاعر علامہ اقبال کہہ چکے ہیں کہ : تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند حال میں اعظم گڑھ کی ایک عربی درسگاہ میں ”آل انڈیا تعلیمی سیمینار“ کیا گیا۔ اس کی مفصل رپورٹ دہلی کے روزنامہ قومی آواز (۵ نومبر ۱۹۹۲) میں چھپی ہے۔ یہ رپورٹ ایک شریک سیمینار کے قلم سے ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک مشہور اسلامی جماعت کے ذمہ دار عالم نے اپنے مقالہ میں کہا : ”گزشتہ دو سو سال میں مسلمانوں نے کوئی ایسا کارنامہ انجام نہیں دیا جس پر فخر کیا جا سکے۔ اصل کام امت میں بیداری پیدا کرنے کا ہے۔“ ہمارا کہنا صرف یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہمارے رہنماؤں نے فکری تبدیلی لانے سے پہلے عملی اقدام شروع کر دیا۔ اس لیے بے پناہ قربانیوں کے باوجود کوئی حقیقی کامیابی نہ ہوسکی۔ اب ہمیں یہ غلطی نہیں کرنا ہے۔ اب ہم کو اپنی ساری قوت فکری انقلاب برپا کرنے پر لگا دینا ہے۔ جب تک یہ ابتدائی کام نہ ہو جائے، عملی اقدام کی بات کرنا ایک لغو حرکت ہے نہ کہ فی الواقع کوئی کام۔ ایک صاحب نے کہا کہ آج کشمیر سے لے کر بوسنیا تک ہر جگہ دشمنان اسلام مسلمانوں کو ذبح کر رہے ہیں اور آپ ان مظالم پر کچھ نہیں لکھتے۔ میں نے کہا کہ یہ نہ کہئے!۔ بلکہ یوں کہئے کہ میں آپ جیسے لوگوں کی عقل سے نہیں لکھتا بلکہ اس عقل سے لکھتا ہوں جو اللہ نے ہم کو قرآن میں سکھائی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ دوسری کون سی عقل ہے۔ میں نے کہا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت سلیمان نے جب ملکہ سبا کے نام اطاعت کا خط بھیجا تو اس نے اپنے درباریوں سے مشورہ کیا۔ درباریوں نے جنگ کا مشورہ دیا۔ اس وقت ملکہ سبا کی زبان سے قرآن میں یہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader