ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
قالت ان الملوك اذا دخلوا قریة اس نے کہا کہ بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں داخل افسدوها وجعلوا اعزة اهلها ہوتے ہیں تو اس کو تباہ کر دیتے ہیں اور اس اذلة وكذلك يفعلون (النمل ۳۴) کے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں اور یہی یہ لوگ کریں گے۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا معاملہ یہ ہے کہ ہر جگہ وہ ”ملوک“ کو اپنی بستی میں داخل ہونے کا موقع دیتے ہیں اور جب وہ داخل ہوکر وہ کچھ کرتے ہیں جس کا ذکر اس آیت میں ہے تو اس کے بعد شور کرتے ہیں کہ دیکھو، یہ ہمارے سے اور ظلم کر رہے ہیں۔ حالانکہ قرآنی عقل یہ بتاتی ہے کہ ملوك کے لشکر کو اس کا موقع ہی نہ دو کہ وہ تمہاری بستیوں میں داخل ہو کر ظلم و فساد کرنے لگے۔ لوگوں کی توجہ ظلم پر ہے۔ جب کہ قرآن یہ چاہتا ہے کہ ظلم کے سبب پر ساری توجہ دی جائے۔ ۹ نومبر کی ملاقات میں ایک صاحب نے کہا کہ آپ امریکہ کی مثالیں دیتے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ امریکہ اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ میں نے کہا کہ وہ کیسے ۔ انھوں نے کہا کہ جارج بش نے واشنگٹن کی ایک میٹنگ میں کہا ہے کہ اب کسی ملک میں ہماری مرضی کے بغیر کوئی شخص صدر یا وزیر اعظم نہیں بن سکتا۔ میں نے کہا کیا چند دن پہلے ۵ نومبر کے اخبارات کی یہ خبر آپ نے نہیں پڑھی کہ جارج بش اپنی ساری کوشش کے باوجود دوسری ٹرم کے لیے امریکہ کے صدر نہیں بن سکے۔ جارج بش نے واحد سپر پاور کی حیثیت سے اپنی ساری طاقت لگا دی کہ صدام حسین کو عراق کا صدر نہ رہنے دیں۔ مگر صدام حسین بدستور عراق کی صدارت کی کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف جارج بش کو خود صدر کا منصب چھوڑ دینا پڑا۔ جو انسان اتنا کمزور ہو اس کی دھمکیوں یا سازشوں سے خوفزدہ ہونے کی کیا ضرورت۔ کوئی بھی شخص اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق دنیا کی سیاست کے فیصلے کرے ۔ ایسی حالت میں عقل مندی یہ ہے کہ اس قسم کی باتوں کو نظر انداز کر دیا جائے نہ کہ اس میں الجھ کر اپنے وقت کو ضائع کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader