Urdu book · اسفارِ ہند

ناگپور کا سفر

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مجلس میں اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کسی مشن کو مؤثر انداز میں کام کرنے کے لیے ہمیشہ ظاہری مرکز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہندوستان میں دو تحریکیں خاص طور پر کامیاب رہیں۔ ایک دیوبند تحریک، اور دوسرے تبلیغی جماعت۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ دونوں کے پاس ایک ظاہری مرکز موجود تھا جس سے لوگ بہ آسانی وابستہ ہو سکتے تھے۔ دیوبند تحریک مبنی مدرسہ (madras-based) تحریک تھی۔ اس کے کارکنوں کے سامنے ایک متعین کام تھا کہ وہ ہر جگہ مدرسہ بنائیں۔ مدرسہ بننے کے بعد مقامی طور پر ہی اس کو ہر قسم کے ضروری افراد مل جاتے تھے اور تحریک کو ایک محسوس مرکز حاصل ہو جاتا تھا۔ تبلیغی تحریک ایک مبنی بر مسجد (masjid-based) تحریک کے طور پر اٹھی۔ اس کا نتیجہ ہوا کہ فوراً ہی اس کو ہر جگہ کام کا مرکز حاصل ہو گیا۔ کیوں کہ ہر جگہ مسجد پہلے سے موجود تھی۔ تبلیغی جماعت کو پھیللاؤ ملنے کا خاص سبب یہی ہے کہ اس نے مسجد کو بنیاد بنا کر کام کیا۔ اور اس بنا پر لوگوں کو جوڑنا اس کے لیے نہایت آسان ہو گیا۔ الرسالة مشن میں علم کا پہلو غالب ہے۔ اس لیے ہمیں تعلیم گاہ کو مرکز بنا کر اس کام کو آگے بڑھانا ہے۔ الرسالة مشن سے وابستہ لوگوں کو یہ کرنا ہے کہ ہر جگہ وہ یا تو قائم شدہ تعلیم گاہ سے جڑ کر کام کریں یا خود اپنے وسائل کے تحت کوئی تعلیم گاہ بنائیں۔ اس طرح ہر جگہ یہ کام ایک محسوس صورت اختیار کر لے گا اور اس کے ساتھ لوگوں کا جڑنا آسان ہو جائے گا۔ الرسالة سے وابستہ افراد جگہ جگہ یہ کام کر رہے ہیں۔ کوئی مدرسہ کی صورت میں یہ کام کر رہا ہے اور کوئی اسکول کی صورت میں۔ ضرورت ہے کہ یہ سب کام مزید اضافہ کے ساتھ منظم ہو جائیں۔ اور پورے ملک کی سطح پر ایک تعلیمی ایمپائر کی صورت اختیار کر لیں۔ جس کنونشن میں شرکت کے لیے میں ناگپور گیا، اس کے داعی سید قمر زماں صاحب ہیں۔ وہ روزنامہ اردو سماچار کے مالک اور ایڈیٹر ہیں۔ بنیادی طور پر وہ ایک ٹریڈ یونین لیڈر ہیں۔ ان کا خالص دائرہ کار اس علاقہ کی کول مائنز کے کارکن ہیں جن کی تعداد تقریباً ۵۰ ہزار ہے۔ ٹریڈ یونین ازم دراصل لبر موومنٹ کا ایک جزہ ہے۔ یہ صنعتی دور کے مظاہر میں سے ایک ہے۔ وہ اٹھارویں صدی کے آخر میں برطانیہ میں شروع ہوئی اور پھر ساری دنیا میں پھیل گئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page