ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ کچھ دیر تک تیز و تند انداز میں گفتگو کرتے رہے۔ اس کے بعد یہ کہتے ہوئے اپنی کرسی سے اٹھ گئے: "یہاں کے لوگوں نے آپ کو اس طرح پرو جیکٹ کیا تھا جیسے کہ آپ کوئی اعلیٰ فکر کے والی شخصیت ہیں۔ مگر معلوم ہوا کہ آپ اسی طرح کے ایک نرے مولوی ہیں جیسے کہ تمام مولوی ہوتے ہیں۔" ان کا انداز نہایت تحقیر آمیز اور اشتعال انگیز تھا، مگر مجھے ان پر غصہ نہیں آیا۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ میری ذات کو کوئی برا کہے تو مجھے کبھی غصہ نہیں آتا۔ ان کے جانے کے بعد میں نے ان کے حق میں دعا کی میرے دل میں ان کے لیے کوئی نفرت پیدا نہیں ہوئی۔ میں نے سوچا کہ ان کی اصل مشکل یہ ہے کہ وہ میرے نقطہ نظر کو سمجھنے کے لیے تیار ذہن (prepared mind) نہیں ہیں۔ اگر انھوں نے اس سے پہلے الرسالہ پڑھا ہوتا تو یقیناً ان کا رد عمل بالکل مختلف ہوتا۔ یہاں ایک بہت بڑا صحافتی ادارہ ہے جو تین زبانوں (انگریزی، ہندی، مراٹھی) میں اخبار نکالتا ہے۔ اس کے ہندی روز نامہ لوک ستما چار کے ایڈیٹر شری ایس ایم دنو در سے ۹ نومبر کو ملاقات ہوئی ۔ بات چیت کے دوران انھوں نے کہا کہ ”لوگ حقیقت میں نہیں جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج کل کے لوگوں کی یہ بنیادی خرابی ہے جس نے تمام معاملات کو بگاڑ رکھا ہے اگر لوگ باتوں کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے لینے لگیں تو بیشتر جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۰ کو جب پابندی کے باوجود کچھ رام سیوک اجودھیا میں داخل ہوگئے تو صبح کو یہاں کے ایک ہندی اخبار نے پہلے صفحہ پر یہ سرخی لگائی: ”سینا کی گولیوں کی بوچھاڑ کے بیچ انشکھیہ رام سیوک مندر (بابری مسجد) میں گھس گئے!“ یہ اخبار لوگوں میں پھیلا تو شہر میں زبر دست تناؤ پیدا ہو گیا۔ مگر اسی دن ٹیلی پرنٹر پر پی ٹی آئی کی خبر آجی جس میں صحیح بات بتائی گئی تھی۔ مسٹر ونود نے فوراً کارروائی کی اور اسی دن اپنے اخبار کا اسپشل بلیٹن نکالا اور اس کو سارے شہر میں پھیلا دیا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ مذکورہ خبر بالکل بے بنیاد ہے۔ اس بلیٹن کے پھیلتے ہی فضا بدل گئی۔ اس کے بعد پولیس کمشنر نے مسٹر ونود کو خط لکھا۔ اس میں انھوں نے اس بات پر مسٹر ونود کا شکریہ ادا کیا کہ ان کے بلیٹن نے شہر کو فساد سے بچا لیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader