ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ افواہیں جو اکثر سنگین فساد برپا کرنے کا باعث بن جاتی ہیں، ان کا دفعیہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ جیسے ہی اس قسم کی کوئی افواہ پھیلے، فوراً میڈیا کو استعمال کرکے صحیح خبر لوگوں تک پہنچا دی جائے۔ جناب جلیل ساز صاحب (۹۲ سال) نے بتایا کہ ناگپور میں ۱۵۰ مندر ہیں۔ ان میں سے صرف تین مندر کا کیس مقامی عدالت میں ہے۔ اس کے مقابلہ میں یہاں ۸۸ مسجدیں ہیں اور ان میں سے ۵۴ مسجدوں کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔ یہ یہیں مسلمانوں نے مسجد کے متولی یا مینجنگ کمیٹی کے اوپر بدعنوانی کے الزام میں قائم کیے ہیں۔ یہی حال تقریباً ہر مقام پر پایا جاتا ہے۔ اس دور کا یہ عجیب ظاہر ہ ہے کہ توحید پرست متفرق ہو رہے ہیں اور تعدد پرست متحد ہوتے نظر آتے ہیں۔ سید ظریف الدین صاحب انجینئر ہیں اور کول مائنز میں سروس کرتے ہیں۔ انھوں نے کوئلہ کی کانوں کے بارہ میں بہت سی باتیں بتائیں۔ پہلے کانوں سے کوئلہ نکالنے کے لیے انڈر گراونڈ مائن (U.G) کا طریقہ رائج تھا۔ مگر اب دھیرے دھیرے اوپن کاسٹ مائن (O.C) کا طریقہ رائج کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اگر کسی کارکن کے ساتھ برس ڈیوٹی حادثہ (injury on duty) کا واقعہ ہو جائے ۔ تو اس کے علاج کا تمام خرچ گورنمنٹ دیتی ہے اور اس دوران کی تنخواہ بھی مکمل طور پر اس کو ادا کی جاتی ہے۔ اس کو سن کر میں نے سوچا کہ اگر انسانوں کے یہاں یہ اصول ہے کہ ڈیوٹی دیتے ہوئے کوئی نقصان پیش آجاۓ تو حکومت اس کی مکمل تلافی کی ذمہ داری لے لیتی ہے۔ تو یہی قاعدہ زیادہ بڑے پیمانہ پر خدا وند ذوالجلال کے یہاں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص یا کوئی گروہ فی الواقع خدا کے کام کے لیے اٹھ جائے تو یقینی ہے کہ اس خدائی ذمہ داری کو ادا کرتے ہوئے اگر اس کو نقصان یا حادثہ پیش آئے گا تو خدا کی طرف سے ضرور اس کی تلافی کی جائے گی۔ ایک صاحب نے کہا کہ مسلمانوں میں اتنے زیادہ دینی کام ہو رہے ہیں ، مگر مسلمانوں میں کوئی واقعی بیداری اب تک پیدا نہ ہوسکی۔ میں نے کہا کہ امام مالک نے کہا ہے کہ اس امت کے آخری حصہ کی اصلاح بھی اسی طرح ہوگی جس طرح اس کے ابتدائی حصہ کی اصلاح ہوئی تھی۔ اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ امت کے حصہ اول (صحابہ کرام) کو اسلام بطور معرفت (ڈسکوری) ملا تھا۔ اب دوبارہ ہمیں یہی کرنا ہے کہ موجودہ مسلم نسلوں کو معرفت کے درجہ میں اسلام عطا کریں۔ ان کے لیے اسلام کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader