ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
ری ڈسکوری بنا دیں ۔ اس کے بعد ہی موجودہ مسلمانوں میں کوئی بڑا دینی انقلاب آ سکتا ہے ۔ ناگپور میں آر ایس ایس کا ہیڈ کوارٹر ہے ۔ ۹ نومبر کی شام کو اسے دیکھا ۔ ایک بہت بڑا چوکور میدان ہے ۔ اس کے ایک کونے پر انگریزی حرف ایل (L) کی صورت میں وسیع اور بلند عمارت کھڑی ہوئی ہے ۔ پوری عمارت گیر و سے رنگ میں نظر آتی ہے ۔ دہلی میں ایک صاحب سے جب میں نے ناگپور کے سفر کا ذکر کیا تو فوراَ انھوں نے کہا : آپ ناگپور جا رہے ہیں ، وہ تو آر ایس ایس کا گڑھ ہے ۔ مگر جب میں ناگپور کی سڑکوں اور بازاروں میں چلا تو معلوم ہوا کہ ناگپور صرف ایک چیز کا گڑھ ہے ، اور وہ ” مادی مفاد “ ہے ۔ یہی حال ہر شہر اور بستی کا ہے ۔ لوگ محدود معلومات کی بنا پر شہروں اور بستیوں کے مختلف نام رکھ لیتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر شہر اور ہر بستی کا واحد مذہب مفاد پرستی ہے ۔ اگر لوگ اس حقیقت کو جان لیں تو ان کے بہت سے اندیشے اپنے آپ ختم ہو جائیں ۔ آر ایس ایس ۱۹۲۵ میں ناگپور میں قائم کی گئی ۔ اس کے بانی کیشو بلی رام ہیڈ گوار تھے ۔ ان کو مہا سبھا کے بانی ڈجی وی ساور کر کی حمایت حاصل تھی ۔ آر ایس ایس کے تحت ہر روز ملک بھر میں ۳۰ ہزار شاکھا ئیں قائم ہوتی ہیں ۔ ۱۰ ہزار مقامات پر ہفتہ میں دو بار اس کی میٹنگیں کی جاتی ہیں۔ اس کے ایکٹیو ممبروں کی تعداد ۱۰ لاکھ اور ۱۵ لاکھ کے درمیان بتائی جاتی ہے ۔ ناگپور میں ہر سال بابا تاج الدین (م ۱۹۲۵) کے عرس کے موقع پر صندل کا جلوس نکلتا ہے ۔ یہ بہت بڑا جلوس ہوتا ہے ۔ اور باجے اور شور کے ساتھ نہایت دھوم کے ساتھ چلتا ہوا مین اسی سڑک سے گزرتا ہے جس پر آر ایس ایس کا مرکزی دفتر واقع ہے ۔ مگر آر ایس ایس کے لوگ اس پر کوئی روک ٹوک نہیں کرتے ۔ اور نہ یہاں اس بنیاد پر کبھی فساد ہوا ۔ یہ بات جناب جلیل ساز صاحب (ممبر مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی) نے بتائی ۔ ایک صاحب نے گفتگو کے دوران کہا کہ اس ملک میں مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ آر ایس ایس کی تنظیم ہے ۔ کیوں کہ اس کا قیام ہی مسلم دشمنی کی بنیاد پر ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ اگر ایسا ہو تو یہ عین خدا کی نعمت ہے ۔ اس پر گھبرانے کے بجائے ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے ۔ میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالی جس سے محبت فرماتے ہیں اس پر مصیبت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader