Urdu book · اسفارِ ہند

ناگپور کا سفر

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

بھیج دیتے ہیں۔ یہ بات فرد کے لیے بھی ہے اور بحیثیت مجموعی قوم کے لیے بھی۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے مسائل ہی کو ترقی کا ذریعہ بنایا ہے۔ آدمی جب مسائل وشکلات میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کی روح میں ہلچل پیدا ہوتی ہے۔ اس کے ذہن کی سوئی ہوئی قوتیں جاگ اٹھتی ہیں ۔ وہ معمولی انسان سے اٹھ کر غیر معمولی انسان بن جاتا ہے۔ وہ زیادہ بڑے بڑے کام کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس دنیا میں دشمن ہی کسی انسان کا سب سے بڑا دوست ہے۔ دوست غفلت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اور دشمن آدمی کو چوکس کرتا کر دیتا ہے۔ ناگپور کے ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی ۔ وہ تجارت کا کام کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں ان کے تعلقات کثرت سے آر ایس ایس کے لوگوں سے ہیں۔ وہ ان کے گھروں تک کے حالات سے واقف ہیں۔ انھوں نے آر ایس ایس والوں کے بارہ میں کئی باتیں بتائیں۔ ایک بات یہ تھی کہ آر ایس ایس والے سادگی کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور ان کے یہاں سادگی کی باقاعدہ روایات قائم ہو گئی ہیں۔ مثلاً ان کا کوئی شخص امیر ہو یا غریب، ہرایک کے یہاں روزانہ یہ ہوتا ہے کہ گھر کی عورت ایک ایک شخص سے پوچھتی ہے کہ آپ کتنی روٹی کھائیں گے۔ ہر آدمی بے تکلف بتا دے گا۔ حتیٰ کہ کوئی شخص مہمان ہو تب بھی اس سے پوچھا جائے گا اور وہ خوشی کے ساتھ اپنی مقدار بتا دے گا۔ اس طرح ان کے یہاں بالکل بت در ضرورت کھانا پکایا جاتا ہے۔ ان کے یہاں کبھی کھانا ضائع نہیں کیا جاتا۔ زندگی میں روایت کی بے حد اہمیت ہے۔ نومبر ۱۹۹۲ میں امریکہ کے صدارتی الیکشن میں کلنٹن جیت گئے اور جارج بش ہار گئے تو جارج بش نے فورا آ اعلان کیا کہ ہم اپنی ہار کو تسلیم کرتے ہیں : We accept defeat. موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی کمی یہ ہے کہ ان کے یہاں اس قسم کی روایات قائم نہیں ۔ حتیٰ کہ ہمارے رہ نما اس معاملہ کی اہمیت سے اتنے نا واقف ہیں کہ وہ روایات کے توڑنے کو بنیادی کارنامہ سمجھتے ہیں۔ مثلاً ۱۹۶۵ میں پاکستان میں صدارتی الیکشن ہوا۔ ایک طرف محمد ایوب خان تھے اور دوسری طرف مس فاطمہ جناح۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی نے محمد ایوب خان کی مخالفت کی اور فاطمہ جناح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page