ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اس کا جواب تلاش کرے۔ حالانکہ ایسی روش ہمارے ایمان کے مطابق نہیں۔ پھر میں نے ایک گھنٹہ کی تقریر میں رسول اور اصحاب رسول کے واقعات سے بتایا کہ کس طرح دور اول میں ہمارے لیے کامل رہ نمائی موجود ہے۔ جسٹس ایم ایم چاگنی (Tel: 533006) نے آئی پی سنگھ کی کتاب (Reverted Revolution of India) کا ذکر کیا۔ انھوں نے بتایا کہ مصنف نے اس کتاب میں اقلیتوں کے مسائل کا بہت اچھا مطالعہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے لکھا ہے کہ اقلیت دوسرے درجہ کے قائد کا تحمل نہیں کرسکتی۔ اس کے لیے اول درجہ کا قائد ہونا ضروری ہے : Minority cannot afford to have a 2nd rate leader. It must necessarily have a 1st rate leader. میں اس میں اضافہ کر دوں گا کہ یہ اقلیت اور اکثریت دونوں کا مسئلہ ہے۔ دونوں ہی کے لیے یہ تباہی کی صورت ہے کہ دوسرے درجہ کا آدمی ان کا قائد بن جائے۔ دوسرے درجہ کے قائد سے بہتر یہ ہے کہ سرے سے کوئی قائد ہی موجود نہ ہو۔ کسی گروہ کا قائد نہ ہو تو اس کی فطرت اس کی رہ نمائی کرتی ہے۔ مگر دوسرے درجہ کا قائد اپنی نادانی سے قوم کو غلط رخ پر دوڑا دیتا ہے۔ اور پھر وہ اس کو بربادی کی خندق کے سوا اور کہیں نہیں لے جاتا۔ ۱۰ نومبر ۱۹۹۲ کو مذکورہ کنونشن تھا جو قومی اتحاد، یک جہتی اور سیکولرزم کے عنوان پر کیا گیا تھا۔ اس کی کارروائی ناگپور کے سب سے بڑے ہال (وسنت راؤ دیش پانڈے ہال) میں ہوئی۔ اس کنونشن کے روح رواں مسٹر ایس کیوز ماں تھے ۔ وسیع ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ یہاں زیادہ تر مراٹھی زبان کے پروگرام ہوتے رہے ہیں۔ یہ غالباً پہلا موقع تھا کہ اس ہال میں ایک اردو پروگرام اتنے بڑے پیمانہ پر کیا گیا۔ پوری کارروائی کا ویڈیو ٹیپ لیا گیا۔ آکاش وانی، دور درشن اور اخبارات کے نمائندے بڑی تعداد میں موجود تھے ۔ راستم الحروف کے علاوہ کئی ممتاز افراد نے تقریر یا مقالہ کی صورت میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مثلاً مسٹر کلدیپ نائر، مسٹر موہن چراغی، جسٹس بھاودہا نے، مسٹر شمیم طارق، جسٹس ایم ایم قاضی، مسٹر تیج سنگھ راؤ بھونسلے ایم پی ، وغیرہ۔ اگلی صبح کو یہاں کے تمام اخباروں نے اس کنونشن کی رپورٹ نمایاں طور پر شائع کی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader