Urdu book · اسفارِ ہند

ناگپور کا سفر

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے اپنی تقریر میں ایک بات یہ کہی تھی کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے یہ موقع تھا کہ وہ یہاں کے لوگوں کو رہ نمائی دے کر امامت کا درجہ حاصل کریں۔ مگر اس امامت کی قیمت صبر تھی۔ برادرانِ وطن کی طرف سے اگر ناخوش گواریوں کا تجربہ بھی انہیں صبر کرنا تھا۔ چونکہ انہوں نے صبر کا ثبوت نہیں دیا، اس لیے انہیں امامت کا مقام بھی حاصل نہ ہوسکا۔ مقامی اُردو اخبار "اُردو سماچار" نے اپنے شمارہ 11 نومبر میں کنونشن کی رپورٹ دیتے ہوئے اسی کی سرخی بنائی۔ اس نے لکھا: قیادت اسے ملتی ہے جو صبر کرتا ہے۔ ناگپور کنونشن کے بعد ایک صاحب میرے ہوٹل کے کمرہ میں آئے ۔ انھوں نے مسلمانوں کے مسئلہ کا حل یہ بتایا کہ ان کو حکومت کے سامنے طاقت کے ساتھ پیش کیا جائے۔ میں نے کہا کہ حکومت کے سامنے مسلمانوں کے مسائل پیش کرنے کا کام تو پچھلے پچاس سال سے ہورہا ہے۔ مگر اس کا کچھ بھی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس لیے اب ہمیں اپنی تعمیر آپ کے اصول پر عمل کرنا ہے نہ کہ بے فائدہ طور پر دوسروں سے مطالبہ کرتے رہنا۔ میں نے کہا کہ دس سال پہلے ایک مسلمان لیڈر دہلی آئے۔ انھوں نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کو ایک میمورنڈم پیش کیا۔ اس میمورنڈم کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمان اس ملک میں معاشی دوڑ میں پچھڑ گئے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو اس وقت تک خصوصی رعایت دی جائے جب تک وہ ہندوؤں کے برابر نہ ہوجائیں۔ مذکورہ مسلمان لیڈر کے ذاتی حالات سے میں واقف تھا۔ میں جانتا تھا کہ خود ان کا بہت اچھا بزنس ہے جس سے انھیں کافی آمدنی ہوتی ہے۔ جب کہ ان کے ایک سگے بھائی نہایت خستہ حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ میں نے مذکورہ لیڈر سے کہا کہ آپ اپنے اصول کا آغاز خود اپنے گھر سے کیجئے۔ آپ کے فلاں بھائی معاشی دوڑ میں آپ سے پچھڑ گئے ہیں۔ آپ اپنی ماہانہ آمدنی کا آدھا حصہ ان کو دینا شروع کیجئے اور اس وقت تک دیتے رہیے جب تک وہ آپ کے برابر نہ ہو جائیں۔ میری اس تجویز کو سن کر وہ ہنسنے لگے۔ میں نے کہا کہ یہ کیسی مضحکہ خیز بات ہے کہ جو کام آپ اپنے سگے بھائی کے ساتھ نہیں کر سکتے اس کا مطالبہ آپ اندرا گاندھی سے کرنے جارہے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں پابندی سے الرسالہ پڑھتا ہوں۔ یہاں آپ کی تقریر بھی سنی۔ مجھے اس کی باتیں بہت پسند آتی ہیں۔ مگر ابھی تک آپ نے کوئی عملی پروگرام پیش نہیں کیا۔ ہم لوگ جو الرسالہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page