ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر اردو زبان کو جب تک ترقی نہ دی جائے ، اردو کے ساتھ وابستگی مسلمانوں کے لیے بہت زیادہ مفید نہیں ہو سکتی۔ ضرورت ہے کہ اردو کو ادب کے بجائے تحقیق کی زبان بنایا جائے۔ اس میں شاعرانہ اسلوب کے بجائے سائنٹفک اسلوب کو رواج دیا جائے۔ اس کے بعد ہی اردو زبان سے تعلق ہمارے لیے زندگی اور ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اردو خواں مسلمانوں میں حقیقت پسندی کے بجائے جذباتیت کا سب سے بڑا سبب یہی ہے۔ کئی نوجوانوں نے اپنی نوٹ بک دی اور کہا کہ اس پر نصیحت کا کوئی کلمہ لکھ دیجئے ۔ ایک نوجوان کی نوٹ بک پر میں نے لکھا : زندگی نام ہے ناموافق حالت کو موافق حالت میں تبدیل کرنے کا۔ ایک اور نوجوان کی نوٹ بک پر میں نے یہ جملہ لکھا ــــــ آپ اپنی زندگی کا مشن یہ بنائیے کہ دوسرے لوگ جہاں تک پہنچ چکے ہیں ، آپ اس سے آگے جائیں گے۔ آپ داستان حیات کا اگلا پیراگراف تحریر کریں گے۔ میری کوشش ہمیشہ یہ رہتی ہے کہ نوجوانوں میں زندگی کا حوصلہ پیدا کروں ۔ ان کو مایوسیوں کی تاریکی سے نکال کر امید کی روشنی میں لے آؤں ۔ اس لیے میں ہمیشہ اپنی گفتگو یا ملاقات میں اسی قسم کے پہلوؤں کو ابھارتا ہوں۔ کسی شخص کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت حوصلہ کی ہے۔ البتہ حوصلہ مندی کو حقیقت پسندی کے ساتھ وابستہ رہنا چاہئے۔ حوصلہ مندی اگر حقیقت پسندی سے جڑی ہوئی ہو تو وہ ترقی کی طرف لے جاتی ہے۔ حوصلہ مندی اگر حقیقت پسندی سے جدا ہو جائے تو وہ تباہی کے گڑھے میں گرا دیتی ہے۔ ۱۱ اکتوبر کو آکاش وانی ناگپور نے میری ایک تقریر ریکارڈ کی جو ریڈیو پر نشر کی جائے گی۔ اس تقریر کا موضوع یہ تھا کہ ملک کو ترقی کی طرف کس طرح آگے بڑھایا جائے۔ یہ تقریر إن شاء الله بعد کو شائع کر دی جائے گی۔ اس تقریر میں خاص طور پر ایڈجسٹمنٹ کے اصول پر زور دیا گیا تھا۔ مولانا عبدالکریم پاریکھ صاحب یہاں کی ممتاز دینی شخصیت ہیں ۔ دوسری خدمات کے علاوہ وہ پچھلے چالیس سال سے ایک مسجد میں درس قرآن کا سلسلہ چلا رہے ہیں جس سے ہزاروں لوگوں کو فائدہ ہوا ہے ۔ ان سے دو ملاقاتیں ہوئیں۔ پہلی ملاقات ۱۰ نومبر کی شام کو اور دوسری ملاقات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader