ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
ال نومبر کی صبح کو۔ موصوف نے اپنے بہت سے قیمتی تجربے بتائے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ ہندوستان میں غیرمسلموں میں تعارف اسلام کا کام کرنے کے بہت مواقع ہیں۔ موصوف خود بھی اس میدان میں قابل قدر کام انجام دے رہے ہیں ۔ مولانا پاریکھ نے اپنی کچھ کتابیں دیں۔ ان میں سے ایک کتاب تھی : گائے کا قاتل کون۔ اس میں موصوف نے اپنا ایک واقعہ لکھا تھا کہ ”میں الٰہ آباد سے بذریعہ ٹرین آ رہا تھا۔ بیچ راستہ میں ٹرین کے فیل ہو جانے پر ہمیں ایک جنکشن پر مجبوری سے اتر جانا پڑا۔ میں اسٹیشن سے باہر آیا۔ پل پار کرتے ہوئے سیڑھیوں سے جیسے ہی اترا۔ دیکھا کہ ریلوے پل کی سیڑھیوں کے پاس ایک مری ہوئی گائے پڑی ہے۔ جگہ جگہ سے اس کی ہڈی پسلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور اس کے جسم سے خون نکل کر جم گیا ہے۔ سو پچاس لوگوں نے اسٹیشن کے آس پاس چیخ پکار، نعرنے بازی اور مسلمانوں کے خلاف گالی گلوچ شروع کر دی۔ بلوائیوں کی بھیڑ لوٹنے اور جلانے پر اندھا دھند ٹوٹ پڑی۔ اتنے میں بھیڑ کو چیرتے ہوئے چند ریلوے قلی آگے آئے۔ انھوں نے زور زور سے کہنا شروع کیا کہ بھائیوں پر جھوٹی افواہ ہے۔ اصل میں یہ بیل ہے۔ وہ آج صبح ریلوے شنٹنگ سے ٹکرا کر ہلاک ہو گیا۔ بس اللہ نے خیریت کی اور فساد رک گیا۔“ (صفحہ ۴۷-۴۵) اکثر فساد افواہ سے شروع ہوتے ہیں۔ اور اگر بروقت افواہ کی مؤثر تردید کر دی جائے تو فساد کی آگ بھی یقیناً ٹھنڈی ہو جائے گی ۔ افواہ اگر فساد ہے تو تردیدِ افواہ فساد کا خاتمہ۔ ۱۱ نومبر کو واپسی تھی ۔ ساتھیوں کے ہمراہ ہوٹل سے نکل کر ائیر پورٹ پہنچا۔ انڈین ایرلائنس کی فلائٹ ۴۹۴ کے ذریعہ ناگپور سے دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ حسب معمول جہاز کچھ دیر ائیر پورٹ پر کھٹا رہا۔ اسٹاف اور مسافروں کی ہماہمی جاری رہی ۔ یہاں تک کہ جہاز کے سب دروازے بند کر دیے گئے ۔ اب جہاز روانگی کے لیے تیار تھا۔ پائلٹ نے ایک سوپچ دبائی اور جہاز زمین پر رینگنے لگا۔ کچھ دیر بعد دوسری سوپچ دبائی تو اس کی رفتار تیز ہوگئی ۔ اس کے بعد ایک اور سوپچ دبائی اور جہاز زمین سے اوپر اٹھ کر فضا میں اڑنے لگا۔ یہ دیکھ کر مجھے وہ آیت یاد آئی جو قرآن میں سلیمان علیہ السلام کے بارہ میں ہے۔ قرآن میں ہے کہ ہم نے ہواؤں کو ان کے حکم کے تابع کر دیا ۔ وہ ان کی کشتیوں کو لے کر ان کے امر کے تحت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader