ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
سمندر میں چلتی تھی جہاں وہ ان کو لے جانا چاہتے تھے (ص ۳۶) یہ کوئی پر اسرار معاملہ نہ تھا۔ اصل یہ ہے کہ تاریخ بشری میں پہلی بار اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کو یہ فن سکھایا کہ وہ لوہے کو پگھلا کر اس کو اپنے کام میں لائیں اور بادبانی نظام کو ترقی دے کر ہوا کو اس طرح کنٹرول کر سکیں کہ ان کے سمندری جہاز کسی رکاوٹ کے بغیر لمبے لمبے سفر طے کرنے لگیں۔ یہ انسان کے اوپر اللہ تعالیٰ کا ایک خصوصی انعام ہے جس کا نمایاں آغاز سلیمان علیہ السلام کے ذریعہ ہوا۔ پہلے گھوڑا امر انسانی کے تحت زمین پر چلتا تھا۔ اس کے بعد سمندری جہاز امر انسانی کے تحت پانی پر چلنے لگے۔ اب میکانیکل دور میں کار امر انسانی کے تحت سڑک پر دوڑتی ہے اور ہوائی جہاز امر انسانی کے تحت فضا میں اڑتے ہیں۔ میں جب سڑک پر دیکھتا ہوں کہ ایک شخص موٹر سائیکل پر سوار ہے ۔ اور موٹر سائیکل اس کے ”امر“ کے تحت اس کو ادھر سے اُدھر لے جا رہی ہے تو قرآن کی آیت تنجری بامرہ یاد آ جاتی ہے۔ اس وقت میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ وہ لمحہ کتنا سخت ہوگا جب وَلَتُسْئَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ کے تحت ان نعمتوں کے بارہ میں انسان سے سوال کیا جائے گا۔ راستہ میں ناگپور کا انگریزی اخبار لوک مت ٹائمس (۱۱ نومبر ۱۹۹۲) پڑھا۔ اس میں کل شام کے کنونشن کی تفصیلی رپورٹ موجود تھی۔ راقم الحروف کی تقریر کی رپورٹنگ ان الفاظ میں کی گئی تھی : ۱۱ نومبر کی شام کو دہلی واپس پہنچا۔ دنیا کا ہر سفر قابل واپسی ہوتا ہے۔ مگر ایک سفر ایسا ہے جو قابل واپسی نہیں۔ یہ موت کا سفر ہے۔ مگر جب میں لوگوں کے چہروں کو دیکھتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں کو شاید ناقابل واپسی سفر کی اتنی فکر بھی نہیں کہ جتنی فکر انہیں قابل واپسی سفر کی ہوتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader