Urdu book · اسفارِ ہند

شانتی یاترا

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لئے آئے تھے۔ راستہ میں وہ مجھ سے جہاد کی باتیں کرتے رہے۔ مگر جب آپ کی باتیں سن کر واپس ہوئے تو انھوں نے کہا کہ میرا دماغ بالکل دھل گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ جہاد کا وقت نہیں ہے بلکہ صبر کا وقت ہے۔ اور یہ کہ صبر کوئی منفعل حالت نہیں، وہ زبردست عمل ہے۔ اور آج اسی صابرانہ عمل کی ضرورت ہے۔ اس یاترا کے دوران ہم لوگ جہاں جہاں گئے، ہر جگہ نئے نئے تجربے حاصل ہوئے۔ ۱۶ دسمبر کو, ہم نانڈگاؤں کی سڑکوں پر چلتے ہوئے ایک مقام پر پہنچے۔ یہاں کئی دکانیں جلی ہوئی نظر آئیں. ایک دکان سے ابھی تک دھواں اٹھ رہا تھا اور پائپ کے ذریعہ وہاں پانی ڈال کر اس کو آخری طور پر بجھایا جا رہا تھا۔ اس کو دیکھ کر دل کو سخت جھٹکا لگا۔ میں نے سوچا کہ اپنی دکان ہو تو آدمی اس کو نہایت شوق کے ساتھ سنوارتا ہے، اور جو دکان دوسرے کی ہو اس کو بے رحمی کے ساتھ آگ لگا دیتا ہے۔ خود غرضی کا دین بھی کیسا عجیب ہے۔ آگے بڑھے تو ایک اسکول کے چھوٹے بچے یونیفارم میں آگئے اور ہمارے ساتھ اپنے ننھے پیروں کے ساتھ چلنے لگے۔ ان کو دیکھ کر مجھے کسی کا یہ قول یاد آیا کہ جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ خدا انسانوں سے مایوس نہیں ہوا۔ سوامی چید آنند نے اپنی تقریر میں کہا کہ نانڈگاؤں میں اس قسم کا دنگا پہلی بار ہوا ہے۔ میں کہوں گا کہ آپ لوگ یہ طے کرلیں کہ یہی پہلی بار بھی ہو اور یہی انتم بار بھی۔ مالیگاؤں میں پدیاترا بہت لمبی رہی۔ میرا گمان تھا کہ مالیگاؤں ایک چھوٹا قصبہ ہے۔ مگر معلوم ہوا کہ وہ کافی بڑا ہے اور بالکل شہر کی مانند ہے۔ مالیگاؤں میں ہم لوگ شام کو پہنچے۔ پدیاترا کے بعد تقریروں کا پروگرام تھا۔ کافی لوگ شریک ہوئے۔ صبح کو وہاں سے روانگی تھی۔ ابھی تک وہاں رات کا کرفیو چل رہا تھا۔ یہاں الرسالہ کے قارئین بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ مگر بہت کم لوگوں سے ملاقات ہو سکی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مقامی پبلسٹی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو میری آمد کا علم نہ ہو سکا۔ شری رام پور میں حسب معمول تمام پروگرام ہوئے اور کافی کامیاب رہے۔ ملاقاتوں کے دوران شری رام پور کا ایک سبق آموز قصہ معلوم ہوا۔ یہاں ایک بزرگ کی قبر ہے۔ ۶ دسمبر کے بعد کسی شریر آدمی نے رات کے وقت قبر کو توڑ ڈالا۔ اس قسم کا ایک واقعہ عام طور پر دو فرقوں میں کشیدگی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page