شانتی یاترا
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
اور پھر خونیں فساد کا سبب بن جاتا ہے۔ مگر شری رام پور میں ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہ قصہ پیش آیا تو فوراً ہی بستی کے ہندو اور مسلمان وہاں پہنچے ۔ اور دونوں نے مل کر قبر کو پھر سے بنایا۔ اور پھر اس کے اوپر حسبِ قاعدہ چادر چڑھائی۔ اس طرح انھوں نے فساد کے بم کو ڈیفیوز کر دیا۔ یہ واقعہ ۱۰ دسمبر کو مجھے معلوم ہوا جب کہ میں شانتی یاترا کے تحت شری رام پور میں پہنچا تھا۔ ۱۰ دسمبر کی شام کو ہم نواسا پہنچے۔ یہاں پر یاترا کے بعد حسبِ معمول جلسہ ہوا جس میں ہمارے ساتھیوں نے تقریریں کیں۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ زندگی میں کبھی کبھی اختلاف کا پیدا ہونا عین فطری ہے۔ ایسا ہمیشہ ہوگا۔ خواہ وہ ایک سماج ہو یا کوئی دوسرا سماج۔ پھر اس کا حل کیا ہے۔ میں نے کچھ واقعات بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے حل کے لیے میں آپ کو دو آسان نسخہ بتا تا ہوں۔ ایک یہ کہ_ دوری کو دور کیجئے ۔ یعنی ایک فرقہ اور دوسرے فرقہ کے لوگ آپس میں خوب ملیں، وہ باہمی دوری کو ختم کریں ۔ اس کے بعد بہت سی غلط فہمیاں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی۔ دوسرے یہ کہ جب جھگڑے یا اختلاف کی صورت پیدا ہو تو ایسے موقع پر آپ کا اصول ہونا چاہئے __ ٹکر اؤ نہیں، تدبیر ۔ یعنی ایسے مواقع پر آپ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کریں بلکہ تدبیر کا طریقہ اختیار کریں۔ آپ بم پر بم نہ ماریں بلکہ بم کو ڈیفیوز کر دیں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ جھگڑے کو اس کے پہلے ہی مرحلہ میں ختم کر دیں گے۔ میری تقریر کے بعد کچھ ہندو نو جوان مجھ سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے کبھی اس طرح سوچا نہیں تھا۔ مگر آج سمجھ میں آیا کہ یہی اصل بات ہے اور ہمیں ایسا ہی کرنا چاہئے۔ میں نے بتایا کہ اس کی ایک مثال دسمبر ۱۹۹۲ میں ہونے والا دہلی کا فساد ہے۔ دہلی میں ۱۲ دسمبر کو میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ انھوں نے غصہ کے ساتھ کہا " اس وقت ایسٹ دہلی میں آگ لگی ہوئی ہے۔ یہ ہندو مسلم فساد نہیں، یہ پولیس مسلم فساد ہے" یہ بات انھوں نے ویلکیم کالونی کے فساد کے بارہ میں کہی تھی۔ مگر جس ایسٹ دہلی میں ویلکیم کالونی ہے، اسی ایسٹ دہلی میں عین اس کے پاس ہی گونڈہ کالونی ہے۔ اور گونڈہ کالونی میں نہ کوئی فساد ہوا اور نہ کرفیو لگا۔ حالانکہ وہاں بھی " سازش " کے وہی واقعات ہوئے جس کا حوالہ دوسرے مقامات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader