شانتی یاترا
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
پر دیا جاتا ہے۔ ۱۳ دسمبر ۱۹۹۲ کو میری ملاقات مولانا محمد قاسم قاسمی سے ہوئی، وہ مدرسہ حسین بخش میں استاد ہیں اور گوندہ کالونی میں اپنے بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ ۸ دسمبر کو جب پرانی دہلی میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی تو فورا وہ گوندہ کالونی چلے گئے اور ایک ہفتہ تک مسلسل وہیں رہے ۔ انھوں نے ذاتی واقفیت کے تحت کئی واقعات بتائے۔ انھوں نے بتایا کہ گوندہ کالونی میں ایک ہندو کالج ہے، مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ اس کالج میں ہتھیار جمع کئے گئے ہیں اور لڑکے وہاں اکٹھا ہو کر باقاعدہ فساد کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ کچھ مسلمانوں نے فورا پولیس کے ذمہ داروں کو ٹیلی فون کیا اور انھیں بتایا کہ یہاں فساد کا خطرہ ہے، آپ لوگ اس کو روکنے کی کارروائی کریں ۔ اس کے بعد پولیس کی ایک پارٹی کالج میں داخل ہوئی۔ اس نے تلاشی لی تو خبر صحیح نکلی ۔ پولیس نے اسی وقت تمام ہتھیار اپنے قبضہ میں کر لئے اور لڑکوں کو گرفتار کر لیا۔ اسی طرح گوندہ کالونی کے مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ ایک ہندو وکیل کے مکان کے اوپرى حصّہ میں گولہ بارود جمع ہے اور وہاں بم بنائے جا رہے ہیں۔ تحقیق کرنے کے بعد کچھ سمجھدار مسلمان اس ہندو وکیل کے یہاں گئے اور اس سے کہا کہ آپ کے اوپر جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب ہم کو معلوم ہو چکا ہے ۔ اب آپ یا تو سارا سامان ضائع کر دیں، ورنہ ہم پولیس کو بلاتے ہیں۔ ہندو وکیل نے معافی مانگی اور اسی وقت تمام سامان ضائع کر دیا۔ ایک رات کو آرایس ایس کی ایک گاڑی گوندہ کالونی میں آگئی۔ وہ ہر ہر مہادیو کے نعرے لگانے لگے۔ اس کو سن کر کچھ مسلم نوجوان باہر نکل آئے ۔ انھوں نے بھی اللہ اکبر کے نعرے لگانے شروع کر دئے ۔ اس وقت فوراً کچھ سنجیدہ مسلمان باہر آئے ۔ انھوں نے مسلم نوجوانوں کو روکا اور پولیس کو ٹیلی فون کر کے بلایا ۔ پولیس نے اسی وقت کارروائی کر کے آرسیوں کو وہاں سے بھگا دیا۔ مولانا قاسم صاحب نے بتایا کہ ۶ دسمبر کے بعد جب کشیدگی پیدا ہوئی تو فورا ہی گوندہ کالونی والوں نے باہم مشورہ سے امن کمیٹی بنائی۔ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں کو شریک کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader