شانتی یاترا
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
کا پانی نہ بہاسکا، اس کو سنت اور فقیر کے آنسوؤں سے بھگو دیا جائے۔ عجیب بات ہے کہ شانتی یاترا سے واپسی کے بعد ۲۹ دسمبر کا اخبار آیا تو اس میں یہی بات پرائم منسٹر نرسمہا راؤ کے حوالے سے چھپی ہوئی تھی. سوامی ویویکانند نے ۱۸۹۳ میں شکاگو کی کانفرنس میں ایک خطبہ دیا تھا۔ اس کے سوسالہ جشن کے طور پر کنیا کماری میں رہ اشتریتنا (قومی بیداری) کی تقریب منائی گئی۔ اس موقع پر پرائم منسٹر نرسمہا راؤ نے شرکت کی۔ انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا : دیش آج بحران سے دوچار ہے۔ اس بحران کی گھڑی میں ہم کو روحانی اور مذہبی پیشواؤں کی مدد کی ضرورت ہے. کیوں کہ وہ سیاست دانوں کے مقابلہ میں عوام کے جذبات کو زیادہ سمجھ سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہو تو یہ ملک رہنے کی زیادہ بہتر جگہ ہو جائے گا۔ مجھے اس حقیقی راستہ کی تلاش ہے جس پر آئندہ اس ملک کو چلنا چاہئے۔ ٹائمٹس آف انڈیا (۲۹ دسمبر ۱۹۹۲) کی رپورٹ کے مطابق انہوں کہا کہ وزیراعظم کی حیثیت سے وہ ایک ایسے پیاسے مسافر کی طرح ہیں جو پانی کی تلاش میں ہے۔ مگر افسوس کہ پانی کے بجائے میں ایک سراب میں جا پڑا : He was like a thirsty traveller looking for water. But instead of water, I stepped into a mirage (p. 4). ایک جگہ مجھے معلوم ہوا کہ جلوس پر فساد ہوا۔ کچھ مسلمانوں نے ایک جلوس نکالا. دوسرے فرقہ کے لوگوں نے روک ٹوک کی۔ اب دونوں طرف کے لوگ مشتعل ہوگئے ۔ اس کے بعد وہ سب کچھ ہوا جو عام طور پر فرقہ وارانہ فسادات میں ہوتا ہے. میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ انڈیا میں سب سے بڑی بدعت جلوس ہے۔ موجودہ مزاج کے ساتھ جلوس نکالنا سرے سے جائز ہی نہیں۔ بالفرض اگر جلوس کو جائز سمجھا جائے تو وہ ان لوگوں کے لئے جائز ہوگا جو یہ صلاحیت رکھتے ہوں کہ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ لوگ کہتے ہیں کہ جمہوریت میں مظاہرہ کا حق ہے اور جلوس دراصل مظاہرہ کے لئے نکالا جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ برداشت والے لوگ اگر جلوس نکالیں تو اس کا نام مظاہرہ ہے، اور بے برداشت لوگ اگر جلوس نکالیں تو اس کا نام فساد۔ اور فساد کسی بھی قانونی نظام میں جائز نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader