Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

خدا کے نام میں الحاد

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

میں چوں کہ یہ مراکز متعدد ہو جاتے ہیں ، اس لیے اس کا عملی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حقیقی خدا پرستی سرے سے ختم ہو جاتی ہے۔ خدا پرستی کے نام پر کچھ بے روح مظاہر باقی رہتے ہیں ، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ ایک مثال کسی ماں کا بچہ اپنی ماں سے دور ہو تو اُس کی ماں ایسا نہیں کرے گی کہ وہ مٹی یا پتھر کے ذریعے اپنے بچے کی مورتی بنائے اور اُس پر صبح و شام پھول چڑھائے ، یا وہ اپنے بچے کے مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے اُس کی کئی مورتیاں بنائے اور ان مورتیوں کے آگے وہ مختلف رسمیں ادا کرے۔ اگر کوئی ماں ایسا کرے تو اس طرح اُس کو اؤس کے جذبات کی تسکین نہیں ملے گی۔ اپنے بچے کے ساتھ اس کا کوئی تعلق قائم نہیں ہوگا۔ اگر کوئی ماں ایسا کرے تو اُس کے لیے اپنے بچے سے تعلق محض ایک ظاہر داری کی رسم بن جائے گی۔ اس طرح کی ظاہر دارانہ رسوم کسی بھی درجے میں ماں اور بچے کے درمیان لطیف تعلق کا بدل نہیں بن سکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کسی ماں نے ایسا نہیں کیا۔ ماں اپنے دور کے بیٹے سے ہمیشہ تصوراتی تعلق قائم کرتی ہے، وہ اس کی مورتی بنا کر اس کے ذریعے اپنے بچے سے تعلق قائم کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔ اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ خدا کے نام پر خدا کے بُت بنانا کتنا زیادہ بے اصل بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جو لوگ خدا کے نام پر بتوں کی پوجا کرتے ہیں ، یا جو لوگ خدا کے نام پر قبروں اور درگاہوں کے آگے جھکتے ہیں اور پھول اور چادر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page