Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

خدا کے نام میں الحاد

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

روحانی تعلق دوطرفہ تعلق کا نام ہے۔ ہمارے اندر کیفیات ہوں، لیکن دوسری طرف سے اس کا جواب نہ ملے تو اس قسم کا یک طرفہ تعلق صرف اوپری یا غیر فطری تعلق ہوگا، وہ انسان کی زندگی میں کوئی حقیقی درجہ حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ واقعہ ایک اور شدید تر خرابی پیدا کرتا ہے، وہ یہ کہ بت کلچر آخر میں جھوٹ کلچر یا ظاہر داری کلچر بن کر رہ جاتا ہے۔ بتوں کے اندر خدائی اوصاف ثابت کرنے کے لیے فرضی کہانیاں بنائی جاتی ہیں اور ان کو خوب شہرت دی جاتی ہے، تاکہ بتوں کا جو فائدہ حقیقی طور پر نہیں ملا، اُن کے بارے میں لوگوں کو یہ فرضی تاثر دیا جائے کہ وہ حاصل ہوئے، یا وہ حاصل ہو سکتے ہیں۔ بت پرستی کا یہی ظاہر ہ (phenomenon) قبر پرستی کی دنیا میں بھی نظر آتا ہے۔ قبر پرست لوگ صاحبِ قبر کے نام پر انتہائی بے بنیاد قسم کی فرضی کہانیاں وضع کرتے ہیں۔ وہ جھوٹے خوابوں کا طلسم بناتے ہیں اور پھر ان فرضی کہانیوں اور فرضی خوابوں کو اس طرح پھیلاتे ہیں جیسے کہ وہ سچ مچ واقعہ ہوں۔ اس طرح اصنام کلچر اور درگاہ کلچر انسان کو دیوالیہ پن کی حد تک اعلیٰ اخلاق سے دور کر دیتا ہے۔ انسان عین اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے ایک جذباتی وجود ہے۔ جذبات کا تفرق (diversification) ممکن نہیں۔ انسان فطری طور پر اپنے جذبات کا کوئی ایک مرکز چاہتا ہے۔ جذبات کا کئی مرکز ہونا ایک غیر فطری بات ہے جو عملاً ممکن نہیں۔ بت پرستی اس معاملے میں بھی انسانی نفسیات سے ٹکرا جاتی ہے۔ فطری طور پر انسان کسی ایک ہی چیز سے جذباتی تعلق قائم کر سکتا ہے۔ بت پرستی کے مذہب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page