Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

خدا کے نام میں الحاد

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

چڑھاتے ہیں، وہ خدا کے ساتھ حقیقی تعلق سے بالکل محروم ہوتے ہیں، وہ ہمیشہ کچھ ظاہری رسوم میں جیتے رہتے ہیں، خدا کے ساتھ تعلق کی لطیف حقیقت سے وہ کبھی آشنا نہیں ہوتے۔ خدا اُن کے لیے محض ایک بے روح لفظ ہوتا ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ اسماء حسنیٰ: خدا کا تصوراتی ماڈل اسماء حسنیٰ کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ اسماء حسنیٰ کے ذریعے آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں خدا کا تصور اپنے ذہن میں لائے، وہ حقیقی طور پر خدا سے مربوط ہو سکے۔ بت پرستی کے مذہب میں انسان، خدا کے فزیکل ماڈل (physical model) بناتا ہے۔ اس قسم کے ماڈل بنانا ایک سنگین انحراف ہے، وہ خدا پرستانہ کلچر کو ایک بے روح رسم بنا کر رکھ دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ أصنام کلچر یا درگاہ کلچر خدا کی خدائی کا کم تر اندازہ (underestimation) ہے۔ بت پرستی کے کلچر میں یا قبر پرستی کے کلچر میں اعلیٰ خدائی اخلاقیات کبھی پرورش نہیں پا سکتے۔ اسماء حسنیٰ گویا کہ اسی غلطی کی تصحیح ہیں۔ اسماء حسنیٰ کے ذریعے انسان کو خدا کا تصوراتی ماڈل (conceptual model) مل جاتا ہے۔ اور بلاشبہ خدا کا تصوراتی ماڈل ہی صحیح ماڈل ہے۔ اسماء حسنیٰ کی شکل میں آدمی اُن صحیح الفاظ کو پالیدا ہے جن کے ذریعے وہ خدا سے تصوراتی ربط قائم کر سکے۔ اسماء حسنیٰ کے ذریعے خدا سے جو تعلق قائم ہوتا ہے، وہ ایک زندہ اور معلوم تعلق ہوتا ہے۔ مثلاً انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ خدا ایک ہو اور وہ زندہ اور قائم خدا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page