اسماءِ حسنیٰ
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
اب جب وہ کہتا ہے کہ: اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم (2:3) تو وہ عین فطری مانگ کے مطابق ، فوراً خدا کا ایک حقیقی ماڈل پاللیتا ہے۔ اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اور خدا کے درمیان ایک زندہ تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ اس اعتبار سے اسماء حسنیٰ، خدا اور انسان کے درمیان تصوراتی ربط (contact at conceptual level) کا زندہ اور حقیقی ذریعہ ہیں۔ وہ انسان کی فطری تلاش کا ایک بھر پور جواب (complete response) ہیں۔ اسماء حسنیٰ، انسان کے لیے خدا کا مستند تعارف ہیں۔ اسماء حسنیٰ کے ذریعے انسان، خدا کی صفاتی شخصیت کا یقینی تصور اپنے ذہن میں لاسکتا ہے۔ اسماء حسنیٰ خدا کا وہ تصوراتی ماڈل ہیں جو کسی انسانی قیاس پر قائم نہیں ہیں، بلکہ وہ خود خدا کے الہامی علم پر قائم ہیں۔ اسماء حسنیٰ کا یہ ماڈل اعتقادی بے یقینی میں بھٹکے ہوئے انسان کو یقین کا سر چشمہ عطا کرتا ہے۔ اسماء حسنیٰ کے ذریعے انسان اُس صحیح فریم ورک کو پا لیتا ہے جس کی روشنی میں وہ خدا کو اپنے لیے پوری طرح قابل فہم (understandable) بنا سکے۔ اسماء حسنیٰ اور دیگر مذاہب اسماء حسنیٰ کا مطالعہ تاریخی نقطہ نظر سے کیا جائے تو ایک انوکھی چیز دریافت ہوگی، وہ یہ کہ اسماء حسنیٰ کا تصور (concept) اسلام کے سوا کسی اور موجودہ مذہب یا کسی اور موجودہ اعتقادی نظام میں نہیں پایا جاتا۔ یہ اسلام کی استثنائی صفت ہے کہ اُس کے اندر خدا کے بارے میں اسماء حسنیٰ کا تصور پایا جاتا ہے۔ یہ کوئی سادہ بات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader