Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

اسماء حسنیٰ اور دیگر مذاہب

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں ۔ اگر آپ اسلام اور دوسرے مذاہب کا تقابلی مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ بے حد سنگین بات ہے۔ چناں چہ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلام کے سوا ، دوسرے مذاہب میں انسان اور خدا کے درمیان گہرا تعلق سرے سے نہیں پایا جاتا۔ ہر دوسرے مذہب میں خدا کی حیثیت صرف ایک علامتی ہستی (symbolic god) کی ہے ، نہ کہ ایک حقیقی اور زندہ خدا کی۔ مثال کے طور پر یہودی مذہب کو لیجیے۔ یہودی اعتقادیات کا ماخذ بائبل (عہد نامہ قدیم) ہے۔ آپ اس کتاب کا مطالعہ کریں تو اُس میں اسماء حسنیٰ کی نوعیت کا خداوندی تعارف موجود نہیں۔ ایک جگہ خدا کو بتاتے ہوئے ، اُس کے بارے میں ”میں جو ہوں ، سو میں ہوں“ کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سلسلے میں بائبل کے اصل الفاظ اس طرح ہیں: ”تب موسیٰ نے خدا سے کہا: جب میں بنی اسرائیل کے پاس جا کر اُن کو کہوں کہ تمھارے باپ دادا کے خدا نے مجھے تمھارے پاس بھیجا ہے اور وہ مجھے کہیں کہ اُس کا نام کیا ہے ، تو میں اُن کو کیا بتاؤں۔ خدا نے موسیٰ سے کہا: میں جو ہوں، سو میں ہوں۔ سو تو ، بنی اسرائیل سے یوں کہنا کہ میں جو ہوں نے مجھے تمھارے پاس بھیجا ہے“(خروج 14, 13: 3) اسی طرح مسیحیت کا مذہبی ماخذ وہ کتاب ہے جس کو نیا عہد نامہ (بائبل) کہا جاتا ہے۔ اس نئے عہد نامے میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح جب صلیب پر چڑھائے گیے تو اُن کی زبان سے یہ الفاظ نکلے : الویٰ، الویٰ، لما شبقتنی، یعنی اے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page