اسماء حسنیٰ اور دیگر مذاہب
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
میرے خدا، اے میرے خدا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا: My God, my God, why have You forsaken me. (Mark, 15:34) مسیحی چرچ کے عقیدے کے مطابق ، حضرت مسیح کا سولی پر چڑھ کر مصلوب ہونا کوئی اتفاقی حادثہ نہ تھا، وہ مسیحی چرچ کے عقیدے کے مطابق ، ایک خدائی منصوبے کے تحت پیش آیا۔ کفّارۂ مسیح کے عقیدہ (atonement) کے مطابق، خدا نے حضرت مسیح کو اسی خاص مقصد کے لیے دنیا میں بھیجا تھا کہ وہ انسانی گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے سولی پر چڑھ جائیں، اور انھوں نے بخوشی ایسا کیا۔ مسیحی چرچ کے مبینہ عقیدے کے مطابق، خدا، تثلیث کا ایک حصہ ہے۔ مسیحی عقیدے کو ٹری نٹی (trinity) کے لفظ میں بیان کیا جاتا ہے، یعنی تین میں ایک اور ایک میں تین۔ اس عقیدے کے مطابق، حضرت مسیح عام انسان نہیں تھے، بلکہ وہ خدا کا ایک حصہ تھے۔ ایسی حالت میں حضرت مسیح کا مذکورہ واقعہ، انسان کے لیے خدا کے معاملے میں یقین کا سر چشمہ نہیں بن سکتا۔ اس واقعے میں خدا خود بے بس ہو کر فریاد کر رہا ہے۔ وہ خود اپنے آپ کو ایک متروک وجود سمجھتا ہے۔ اُس کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ اپنے آپ کو وقت کے حکم رانوں سے محفوظ رکھ سکے۔ ایسا خدا، دوسرے انسانوں کے لیے کس طرح اعتماد کا سر چشمہ بن سکتا ہے۔ انسان کو ایک ایسا خدا چاہیے جو اُس کے لیے اعتماد کا ذریعہ بن سکے، مگر مسیحیت ، انسان کو ایک ایسے خدا کا تصور دیتی ہے جس میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader