Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

اسماءِ حسنیٰ

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا خود ہی بے بس دکھائی دے رہا ہے۔ اِس کے بعد اُن مذاہب کو لیجیے جن کو آریَن مذاہب کہا جاتا ہے، یعنی ہندوازم، وغیرہ۔ اِن مذاہب میں پرسنل گاڈ (personal God) کا تصور موجود نہیں۔ اِن مذاہب میں اگرچہ خدا کا لفظ استعمال ہوتا ہے، مگر وہ صرف ایک علامتی لفظ ہوتا ہے، کیوں کہ اِن مذاہب میں عقیدۂ خدا کے تشخص کے لیے کسی مستقل وجود کا کوئی تصور نہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، آریَن مذاہب میں خدا کو نرا کار (formless God) مانا جاتا ہے۔ اُن کے عقیدے کے مطابق، خدا اَنر گُن ہے، یعنی اُس کی کوئی صفت نہیں۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ خدا کو ایک متعین ہستی کے طور پر اپنے ذہن میں لائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو مذہب میں خدا کی کوئی عبادت گاہ نہیں ہوتی۔ اُن کے یہاں یابتوں کی پرستش ہوتی ہے یا گروؤں کی۔ کیوں کہ بت یا گرو کا تشخص اُن کو ممکن دکھائی دیتا ہے، لیکن خدا کا تشخص اُن کے لیے قابلِ تصور نہیں ہوتا۔ عقیدۂ خدا اور اسماءِ حسنیٰ خدا کا عقیدہ انسان کے لاشعور میں پیوست ہے۔ انسان اپنے فطری تقاضے کے تحت، اِس لاشعور کو شعور میں لانا چاہتا ہے۔ اسماءِ حسنیٰ کا تصور انسان کی اِسی فطری ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ اسماءِ حسنیٰ کی حیثیت ایک فکری ماڈل کی ہے۔ یہ انسان کے اپنے فریم ورک کے مطابق، خدا کی ہستی کو اِس کے لیے قابلِ فہم بناتا ہے۔ مختلف مذاہب میں خدا کی ہستی کے مختلف ماڈل بتائے گیے ہیں۔ اِن میں سے دو ماڈل زیادہ معروف ہیں — آکار ماڈل اور نرا کار ماڈل، مگر یہ دونوں انسانی فریم ورک کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page