اسماءِ حسنیٰ
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
چاہتا ہے کہ وہ ایک بالاتر ہستی کو پکارے۔ یہاں وہ اسماء حسنیٰ میں اس بالاتر ہستی کا ایک متعلق خدائی نام پاللیتا ہے اور اُس کے حوالے سے وہ یہ کہہ اٹھتا ہے کہ اے خدا، تو ہی میرا ناصر ہے، تو ہر اعتبار سے میری مدد فرما۔ انسان مجرد طور پر نہیں سوچ سکتا۔ اپنی ذہنی ساخت کے اعتبار سے انسان کو ہمیشہ الفاظ درکار ہوتے ہیں، جن کے ذریعے وہ کسی تصور کو اپنے ذہن میں لا سکے۔ خدا کے اسماء حسنیٰ کی نوعیت یہی ہے۔ یہ اسماء حسنیٰ یہ بتانے کے لیے نہیں ہیں کہ مطلق طور پر خدا کے نام کیا کیا ہیں، وہ صرف اُن اسماء کو بتاتے ہیں جو انسان کی نسبت سے ہم کو درکار ہیں۔ گویا کہ یہ اسماء حسنیٰ ضرورتِ انسانی کے اعتبار سے بتائے گئے ہیں، نہ کہ خود ذاتِ خداوندی کی حقیقتِ اعلیٰ کے اعتبار سے۔ اسماء حسنیٰ سے مراد صفاتِ حسنیٰ ہیں، مگر اسماء حسنیٰ خود خدا کی مطلق نسبت سے خدا کا تعارف نہیں ہیں، وہ انسان کی نسبت سے خدا کا تعارف ہیں۔ اسماء حسنیٰ دراصل، ذکر اور دعا کے لیے انسان کو پوائنٹ آف ریفرنس دیتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص کو رزق درکار ہے تو وہ خدا سے کہہ سکے کہ اے رزاق، تو مجھے رزق دے دے۔ ایک شخص اپنے کو عاجز محسوس کرتا ہے تو وہ کہہ سکے کہ اے قادرِ حقیقی، تو میرے عجز کی تلافی فرما۔ پر اسرار نہیں اسماء حسنیٰ کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ وہ حروفِ مقطعات کی مانند کچھ پر اسرار الفاظ ہیں۔ ان الفاظ کے اندر کوئی معجزاتی تاثیر چھپی ہوئی ہے، جیسے کہ جو لوگ القرآن مشن کی دعوتی تحریک میں شامل ہوکر ہمارا تعاون کرنا چاہتے ہیں ، اُن سے گزارش ہے کہ وہ ادارہ سے رابطہ کر کے اپنے مکمل پتہ اور ضروری تفصیلات سے آگاہ فرمائیں: Email: info@alquranmission.org, Mobile: +91-9810558483, Fax: +91-11-45651771

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader