Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

اسماءِ حسنیٰ

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

جادوگروں کے منتر میں ہوتی ہے۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم اُن کو یاد کر کے اُن کا ورد کرتے رہیں۔ اور پھر پراسرار طور پر ہمیں ان کے انوکھے فوائد ملتے رہیں گے۔ اکثر لوگوں کے دماغ میں اسی قسم کا تصور بسا ہوا ہے۔ مگر اسماءِ حسنیٰ کے بارے میں اس قسم کا تصور سراسر بے بنیاد ہے۔ اسماءِ حسنیٰ کسی بھی درجے میں پراسرار الفاظ نہیں، وہ پورے معنوں میں ایک معلوم اور بامعنی حقیقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسماءِ حسنیٰ کا معاملہ بلا شبہہ انسان کے لیے ایک عظیم رحمت کا معاملہ ہے۔ مگر یہ رحمت کوئی پراسرار رحمت نہیں، بلکہ وہ ایک ایسی رحمت ہے جو پوری طرح ہمارے معلوم دائرے کی چیز ہے اور علمی طور پر اس کی تشریح کی جاسکتی ہے۔ اسماءِ حسنیٰ دراصل، خدا کی رحمتوں کے معلوم دروازے ہیں۔ قرآن میں ان دروازوں کو اس لیے کھولا گیا ہے کہ آدمی ان کی دریافت کرے اور ان کے راستے سے گزر کر وہ خدا کی رحمتوں کی دنیا میں پہنچ جائے۔ اسماءِ حسنیٰ گویا کہ رحمتِ خداوندی کے ابوابِ حسنیٰ ہیں۔ اسماءِ حسنیٰ ہم کو خدا سے مربوط کرنے کا ذریعہ ہیں۔ اسماءِ حسنیٰ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی وہ کلیدِ معرفت ہے جو ہمارے دل و دماغ کو بیدار کرتی ہے اور ہم کو تاریکی سے روشنی کی طرف لے جانے کا ذریعہ ہے۔ اسماءِ حسنیٰ اور انسان اگر ایک ایسی کتاب لکھی جائے جس میں کمیونیکیشن کی تاریخ بتائی گئی ہو۔ اس کتاب میں نامہ بر کبوتر، ٹیلی گراف، ٹیلی فون اور موبائل جیسے نام ہوں۔ اس کتاب کو ایک شخص پڑھے، خواہ وہ کتاب کی زبان سے بخوبی واقف ہو، لیکن اگر نامہ بر کبوتر،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page