Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

اسماءِ حسنیٰ

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹیلی گراف ، ٹیلی فون اور موبائل جیسی چیزوں کو اُس نے دیکھا نہ ہو تو وہ اِن چیزوں کی حقیقت کے بارے میں کچھ نہ جان سکے گا۔ اِس قسم کی کوئی کتاب ایک واقف کار انسان کے لیے ایک معلوماتی کتاب ہے، لیکن ایک ناواقف انسان کے لیے وہ صرف ایک معما بن کر رہ جائے گی۔ ایسا ہی کچھ معاملہ اسماءِ حسنیٰ کا ہے۔ خدا کے اسماءِ حسنیٰ ، قرآن اور حدیث میں نام بہ نام بتادیے گئے ہیں، لیکن ان ناموں کو قرآن اور حدیث میں پڑھ لینا کافی نہیں۔ قرآن اور حدیث میں بیان ہونے کے باوجود یہ تمام نام کسی انسان کے لیے ایک نامعلوم چیز کی دریافت (discovery) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کوئی آدمی ان ناموں کی حقیقت کو صرف اُس وقت جان سکتا ہے، جب کہ اس سے پہلے وہ ذاتی دریافت کی سطح پر اُن کا علم حاصل کر چکا ہو۔ ذاتی دریافت کے بغیر یہ نام کسی آدمی کے لیے صرف رسمی نام ہوں گے، نہ کہ معرفتِ خداوندی کا خزانہ۔ اسم اعظم اسماءِ حسنیٰ کے ذیل میں ایک بحث یہ ہے کہ کیا خدا کا کوئی اسمِ اعظم ہے، اور اگر ہے تو وہ کیا ہے۔ اسم اعظم کے متعلق مختلف روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ اس سلسلے میں مسند امام احمد بن حنبل کی دو روایتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں : 1- عن أنس بن مالک أنّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم سمع رجلاً یقول : اللھم انی اسألک بأنّ لک الحمد لا الہ الا أنت وحدک لا شریک لک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page