Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

خدا کے نام میں الحاد

Urdu book, p. 3

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بے شمار نام ہیں۔ حدیث میں اسماء حسنیٰ کی تعداد ننانوے بتائی گئی ہے۔ قرآن کا مطالعہ کر کے علما نے یہ تمام اسماء حسنیٰ نام بہ نام دریافت کیے ہیں، لیکن یہ نام خدا کے لامتناہی کمالات کی مطلق گنتی کو نہیں بتاتے۔ یہ تمام نام دراصل انسان کی نسبت سے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر جب عبدیت جاگتی ہے اور شعورِ خداوندی اُس کے اندر بیدار ہوتا ہے تو فطری طور پر اُس کے اندر مختلف قسم کی ربانی کیفیات پیدا ہونے لگتی ہیں۔ اسماء حسنیٰ دراصل، انھیں ربانی کیفیات کے لیے موزوں الفاظ (appropriate words) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مثلاً انسان اپنے وجود پر غور کرتا ہے، جو کہ احسن تقویم کا نمونہ ہے (4: 95)۔ وہ نیچر پر غور کرتا ہے، جس میں ہر چیز حیرت انگیز طور پر اپنے آخری ماڈل پر ہے۔ وہ زمین اور آسمان پر غور کرتا ہے، جس میں کہیں کوئی خلل یا نقص موجود نہیں (3: 67)۔ یہ سوچ اور یہ مشاہدہ آدمی کے اندر ایک پرتموّج تجربہ (thrilling experience) پیدا کرتا ہے۔ اُس وقت آدمی بے اختیارانہ طور پر یہ چاہنے لگتا ہے کہ اُس کے پاس ایسے موزوں الفاظ ہوں، جن کے ذریعے وہ ان لطیف احساسات کا اظہار (express) کر سکے۔ اُس وقت، قرآن اُس کی عین طلب کے مطابق، اُس کو یہ الفاظ فراہم کر دیتا ہے: فتبارک الله أحسن الخالقين (14 :23) خدا کے نام میں الحاد خدائی صفات کی یہ تعداد دراصل الحاد کے مقابلے میں بتائی گئی ہے، جیسا کہ خود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page