Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

پیغمبر کی دعا کی مثال

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

فوج کھڑی ہوئی ہے، جو تعداد میں بھی کم ہے اور سامانِ حرب میں بھی کم۔ اس نابرابری کو دیکھ کر آپ کے جذبات میں ایک ہیجان پیدا ہوا۔ آپ کمالِ عجز کے ساتھ خدا کے سامنے زمین پر سجدے میں گر پڑے۔ اُس وقت آپ کی زبان سے دعا کرتے ہوئے یہ الفاظ نکلے: اللهم، إن تهلك هذه العصابة من أهل الإسلام، لا تعبد فى الأرض أبدا (مسند احمد، جلد 1، صفحه 30)۔ یعنی اے اللہ، اگر تو اہلِ اسلام کے اس گروہ کو آج ہلاک کر دے تو اس کے بعد زمین پر کبھی تیری عبادت نہ ہوگی۔ یہ دعا بھی اپنے ربانی جذبات کے اعتبار سے اسمِ اعظم کے ساتھ کی جانے والی دعا تھی، جو کامل طور پر قبول ہوئی۔ کم زور گروہ نے خدا کی مدد سے طاقت ور گروہ کو مکمل شکست دے دی۔ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا، صرف پیغمبروں کے ساتھ خاص نہیں، اِس دعا کی توفیق ہر بندۂ خدا کو ملتی ہے۔ جو شخص بھی ایمان اور اخلاص کے اعلیٰ ربانی جذبات کے ساتھ خدا کی طرف رجوع ہو، وہ خدا کی مدد سے اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنے کی توفیق پا تا ہے۔ اِس کی پہچان یہ ہے کہ ایسی دعا کے موقع پر آدمی کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُس کا پورا وجود خدا کی تجلّی میں نہا اٹھا ہے۔ اُس وقت وہ ایسے الفاظ بولنے لگتا ہے جو اُس نے اِس سے پہلے کبھی سوچے نہیں تھے۔ تاریخ میں بہت سے خدا کے بندے ہیں، جن کو اِس قسم کی دعاءِ اعظم کی توفیق ملی ہے۔ دعا کے ذریعے شرکت قرآن کی سورہ التوبہ میں کچھ اہلِ ایمان کا ذکر ہے۔ غزوۂ تبوک (8 ہجری) کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page