Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

پیغمبر کی دعا کی مثال

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

موقع پر بچوں کہ نفیر عام تھی ، اس لیے وہ اُس میں جانا چاہتے تھے۔ مگر اُن کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ وہ اس طویل سفر کے لیے ضروری سامان کی تیاری کر سکیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدد کے لیے آئے ، مگر آپ نے معذرت فرمائی ۔ اس واقعے کا اشارہ قرآن کی ایک آیت میں اس طرح کیا گیا ہے : اور نہ اُن لوگوں پر کوئی الزام ہے کہ جب وہ تمھارے پاس آئے کہ تم اُن کو سواری دو ، تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں کہ میں تم کو اُس پر سوار کروں ، تو وہ اس حال میں واپس ہوئے کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، اس غم میں کہ اُنھیں کچھ میسر نہیں جو وہ خرچ کریں ( 92 : 9 ) ۔ یہ افراد غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکے ، مگر ایک حدیث رسول کے مطابق ، خدا کے نزدیک وہ اُس میں شریک مانے گیے۔ غزوہ تبوک سے واپس ہوتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے متعلق اپنے اصحاب سے فرمایا : إن بالمدينة أقواماً ، ما سيرتم مسيراً ، ولا أنفقتم من نفقة ، ولا قطعتم من وادٍ ، إلا وهم معكم فيه۔ یعنی مدینہ میں کچھ ایسے افراد ہیں کہ تم جب کسی راستے پر چلے ، یا جب بھی تم نے کچھ مال خرچ کیا ، یا تم کسی وادی سے گزرے تو وہ اُس میں تمھارے ساتھ تھے ( القرطبی ، جلد 8 ، 292 ، مسند احمد ، جلد 3 ، صفحہ 103 ) ۔ یہ بڑا عجیب انعام تھا جو مدینہ کے اُن افراد کو ملا ، یعنی عمل کے بغیر عمل کے انعام میں شرکت ۔ میں غور کرتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ انوکھا انعام اُن کو اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کی بنا پر ملا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page