پیغمبر کی دعا کی مثال
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے کہ وہ اپنی تنہائیوں میں رورو کر یہ دعا کر رہے ہوں کہ خدایا، تو نے دوسروں کو جو انعام عادل ہونے کی حیثیت سے دیا، وہ انعام مجھ کو رحیم ہونے کی حیثیت سے دے دے۔ تو نے دوسروں کے لیے جو چیز اُن کے عمل کی بنا پر مقدر کی، وہ چیز میرے لیے میری دعا کے نتیجے میں مقدر کر دے۔ تو نے جو کچھ دوسروں کو استحقاق کی بنا پر عطا فرمایا، وہ چیز مجھ کو سوال کرنے والے کی حیثیت سے دے دے۔ دوسروں کو جو چیز تو نے استطاعت کی بنا پر دی، وہ مجھ کو عجز کی بنا پر دے دے۔ تو نے دوسروں کو جو چیز مومن قوی ہونے کی حیثیت سے دی، وہ مجھ کو مومن ضعیف ہونے کی حیثیت سے دے دے، کیوں کہ تیرے رسول نے ہم کو یہ خبر دی ہے کہ: ضعیف مومن کے لیے بھی خیر ہے (وفي کل خیر، صحیح مسلم، کتاب القدر)۔ اسمِ اعظم کا علمِ خدا کو اسمِ اعظم، اسماء حسنیٰ سے الگ کوئی نام نہیں، وہ اُنہی ناموں میں شامل ہے۔ اسماء حسنیٰ میں سے کوئی اسم، اُس وقت اسمِ اعظم بن جاتا ہے، جب کہ دعا کرنے والا اُس کو ایک غیر معمولی جذبے کے تحت استعمال کرے۔ پکارنے والے کا جذبہِ اعظم، اسماء حسنیٰ میں سے کسی اسم کو اسمِ اعظم بنا دیتا ہے۔ اسمِ اعظم کوئی پر اسرار منتر نہیں، وہ مُکَمّل طور پر ایک معلوم حقیقت ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ پکارنے والا یہ جانے کہ اُس نے اسمِ اعظم کے ذریعے خدا کو پکارا ہے۔ یہ دراصل خدا کی قبولیت ہے جو کسی اسم کو اسمِ اعظم کا درجہ دے دیتی ہے۔ اسمِ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader