Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

پیغمبر کی دعا کی مثال

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

بظاہر ایک معلوم لفظ کا نام ہے، لیکن کسی چیز کا اسم اعظم ہونا، تمام تر داخلی اسپرت کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ چوں کہ داخلی اسپرت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، اس لیے یہ صرف اللہ ہے جو جانتا ہے کہ کب اُس کے کسی بندے نے اُس کو اسم اعظم کے ساتھ پکارا۔ یہ حقیقت صرف آخرت میں کھلے گی کہ وہ کون خوش قسمت انسان تھا جس کو اسم اعظم کے ساتھ خدا کو پکارنے کی توفیق حاصل ہوئی۔ اس معاملے میں اگر ہم کچھ کہتے ہیں تو وہ صرف بربناءِ قیاس ہوتا ہے۔ کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو حقیقی علم کی بنیاد پر اس بارے میں کوئی رائے دے سکے۔ خدا اور بندے کے درمیان خدا نے انسان کے لیے اپنے جن اسماء حسنیٰ کا تعارف کرایا ہے، وہ انسان کے اوپر ایک دروازۂ رحمت کھولنے کے ہم معنی ہے۔ اسماء حسنیٰ یہ بتاتے ہیں کہ بندے اور خدا کے درمیان مواقع اتصال (meeting points) کیا کیا ہیں۔ ان مواقع اتصال کے ذریعے بندہ، خدا سے قربت حاصل کر سکتا ہے۔ پھر اگر بندے کی اسپرت بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہو تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ذکر اور اپنی دعا میں اسم اعظم کا استعمال کر سکے، یعنی اُس اسم یا نام کا استعمال جس کے استعمال کے بعد ربانی اتصال اچانک اسی طرح ممکن ہو جاتا ہے، جس طرح بجلی کا سوئچ دبانے کے بعد اچانک بجلی کے بلب کا فوراً روشن ہو جانا۔ یہ معاملہ کوئی پُر اسرار معاملہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ فطرت کا ایک قانون ہے، جس کو خود انسانوں کے درمیان محسوس تعلقات کا مطالعہ کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page