دعا اور سپرد دعا
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
دعا اور سپرد دعا دعا، یا خدا کو پکارنے کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے سادہ طور پر کچھ متعین الفاظ بول کر خدا سے مانگنا۔ دوسری دعا وہ ہے جس کو سپرد دعا کہا جاسکتا ہے۔ یہ دعا کی وہ قسم ہے جس کو پکارنے والا ایسے الفاظ اور ایسے انداز میں پکارتا ہے کہ وہ خود خدا کے لیے، بلاتشبیہ، اُسی طرح ایک ذاتی مسئلہ بن جاتا ہے، جس طرح وہ دعا کرنے والے کے لیے ایک ذاتی مسئلہ تھا۔ پہلی دعا اگر روایتی دعا (traditional dua) ہے تو دوسری دعا تخلیقی دعا (creative dua) ہے۔ انگریزی میں پہلی قسم کی دعا کو ریکویسٹ (request) کرنا کہا جاتا ہے اور دوسری قسم کی دعا کو اِنووک (invoke) کرنا، جیسے کہ کہا جائے: The Almighty God was invoked by his call. دعا اور اسمِ اعظم کی دعا میں یہی فرق ہے۔ دعا عام قسم کی ایک دعا ہے، اور اسمِ اعظم کی دعا گو یا کہ ایک سپرد دعا۔ یہاں ہم ایک واقعہ نقل کریں گے جو سپرد دعا کے معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک واضح مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک واقعہ رام پور (یوپی) کا واقعہ ہے۔ ایک بچے نے اپنے باپ سے کہا کہ میرے لیے ایک بائیسکل خرید دیجئے۔ باپ کی آمدنی کم تھی، وہ بائیسکل خریدنے کی پوزیشن میں نہ تھا، اس نے ٹال دیا۔ لڑکا بار بار کہتا رہا اور باپ بار بار منع کرتا رہا۔ بالآخر ایک روز باپ نے ڈانٹ کر کہا: میں نے کہہ دیا کہ میں بائیسکل نہیں خرید سکتا۔ اب آئندہ مجھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader