Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

دعا اور سپرد دعا

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

سے اس قسم کی بات مت کرنا، ورنہ میں تم کو ماروں گا۔ یہ سن کر لڑکے کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ کچھ دیر چپ رہا۔ اس کے بعد وہ روتے ہوئے بولا آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں، آپ سے نہ کہیں تو اور کس سے کہیں ۔ اس جملے نے باپ کو تڑپا دیا۔ اچانک اس کا انداز بدل گیا۔ اس نے کہا: اچھا بیٹے اطمینان رکھو، میں تمھارے لیے بائیسکل خریدوں گا، اور کل ہی خریدوں گا۔ یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔ اگلے دن اس نے پیسے کا انتظام کر کے بیٹے کے لیے ایک نئی بائیسکل خرید دی۔ لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا، مگر یہ ایک ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی، جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہوگئی تھی۔ اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سر پرست کے آگے بالکل خالی کر دیا ہے۔ یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو ایک ایسے نقطے پر کھڑا کر دیا جہاں اس کی درخواست اس کے سرپرست کے لیے بھی اتنا ہی بڑا مسئلہ بن گئی جتنا کہ وہ خود اس کے لیے تھی۔ بیٹے کے الفاظ نے باپ کو اس سنگین سوال سے دوچار کر دیا کہ اگر وہ اپنے بیٹے کو بائیسکل نہ دے تو اُس کی پدر یت (fatherhood) ہی مشتبہ ہو جائے گی۔ اس واقعے سے سمجھا جا سکتا ہے کہ دعا کی وہ کون سی قسم ہے جس کے بعد خدا کی رحمتیں بندے کے او پر امڈ آتی ہیں۔ یہ رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار نہیں ہے، نہ اس کا کوئی ’’رسمی نصاب‘‘ ہے۔ یہ دعا کی وہ قسم ہے جس میں بندہ اپنی پوری ہستی کو انڈیل دیتا ہے۔ جب بندے کی آنکھ سے عجز کا وہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمل زمین اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page