Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

دعا اور سپرد دعا

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

آسمان بھی نہ کر سکیں ۔ جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کر دیتا ہے کہ ’’ مانگنے والا‘‘ اور ’’ دینے والا‘‘ دونوں ایک ترازو پر آجاتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب کہ دعا، محض لغت کا ایک لفظ نہیں ہوتا ، بلکہ وہ ایک شخصیت کے پھٹنے کی آواز ہوتا ہے۔ اُس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔ بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہوجاتے ہیں۔ قادر مطلق ، عاجز مطلق کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔ اس واقعے پر غور کیجیے تو اس میں دونوں قسم کی دعا کی مثال نظر آئے گی ۔ مذکورہ بچے نے جب پہلی بار اپنے باپ سے یہ کہا کہ مجھے ایک بائیسکل خرید دیجیے تو اُس نے گویا کہ صرف دعا کی، لیکن دوسری بار جب اُس نے روکر یہ کہا کہ آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں، آپ سے بائیسکل کے لیے نہ کہیں تو اور کس سے کہیں ۔ جب بچے کی زبان سے یہ دوسرے الفاظ نکلے تو وہ گویا کہ ایک سپرد دعا تھی ۔ پہلے قسم کے الفاظ سے باپ پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا، لیکن دوسرے قسم کے الفاظ نے باپ کو پگھلا دیا ۔ اب وہ اتنا متاثر ہوا کہ وہ فوراً بائیسکل خریدنے کے لیے تیار ہو گیا۔ اس مثال سے عام قسم کی دعا اور اسم اعظم کی دعا کا فرق سمجھا جاسکتا ہے۔ عام قسم کی دعا، محض دعائیہ الفاظ کو زبان سے دہرادینے کا نام ہے، لیکن اسم اعظم کے ساتھ کی گئی دعا گویا کہ سپرد دعا ہے۔ ایسی دعا خود خدا کو ہلا دیتی ہے، جیسا کہ مظلوم کی دعا کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ: دعوة المظلوم تحمل على الغمام، وتفتح لها أبواب السماء، يقول الرّب عزّوجلّ: وعزّتی، لأنصرنّک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page