دعا اور سپرد دعا
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
ولو بعد حین (مسند احمد، جلد 2، صفحه 305)۔ دعا اور سپرد دعا کا فرق، الفاظ میں فرق کا نام نہیں، بلکہ دعا کرنے والے کی داخلی اسپرٹ میں فرق کا نام ہے۔ یہ دراصل دعا کرنے والے کی اپنی حالت داخلی پر منحصر ہے کہ اُس کی زبان سے نکلنے والی دعا، سپر د دعا بنے گی یا وہ صرف عام دعا بن کر رہ جائے گی۔ دو مثالیں اس معاملے کو سمجھنے کے لیے دونوں قسم کی دعاؤں کی مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ ایک شخص نے قرآنی دعاؤں کی ایک کتاب بازار سے خریدی۔ اُس میں کچھ دعائیں چھپی ہوئی تھیں ۔ اُس نے ان دعاؤوں کو یاد کر لیا اور نمازوں میں اُن کو دہرانے لگا۔ مثلاً یہ دعا: ربنا آتنا في الدنيا حسنة، و في الآخرة حسنة، وقنا عذاب النار۔ یعنی اے ہمارے رب، تو ہم کو دنیا میں حسنہ دے اور تو ہم کو آخرت میں حسنہ دے، اور تو ہم کو آگ کے عذاب سے بچا (201: 2)۔ دعا کا یہ طریقہ روایتی دعا کی ایک مثال ہے۔ اب سپرد دعا کی ایک مثال لیجیے۔ اب سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے مصر میں ایک مشرک بادشاہ کی حکومت تھی، جس کا لقب فرعون تھا۔ اس زمانے میں حضرت موسیٰ کا ظہور ہوا، جنھوں نے مصر میں دعوت توحید دی۔ فرعون خود تو حضرت موسیٰ کا مخالف بن گیا، لیکن اس کی بیوی آسیہ بنت مزاحم، حضرت موسیٰ کی دعوت توحید سے متاثر ہوئی اور وہ حضرت موسیٰ پر ایمان لے آئی۔ قدیم زمانے کے اعتبار سے یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ قدیم زمانہ ’الناس علی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader