Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

خدا کے نام میں الحاد

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں آیا ہے (180 :7) الحاد کے معنی انحراف (deviation) کے ہیں۔ یہ الحاد یا انحراف سب سے زیادہ فلسفے میں کیا گیا ہے۔ فلسفے میں خدا کا تصور ایک بے صفاتی شخصیت (attributeless being) کے طور پر کیا گیا ہے۔ اسی فلسفیانہ تصور کے زیر اثر، ہندوازم میں نُرا کار خدا (formless god) کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔ مشہور جرمن فلسفی فریڈرک ہیگل (Friedrich Hegel) نے اس کو روحِ عالم (world spirit) کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ایک اور فلسفی نے اس کو مجرد تصور (abstract idea) قرار دیا ہے۔ یہ فلسفیانہ تصور، بعض بڑے مذاہب کی اعتقادیات میں بھی داخل ہو گیا۔ اس تصور کے مطابق، خدا کی کوئی مستقل اور علاحدہ شخصیت نہیں۔ وہ ایک بے شخصیت اور بے صفات ہستی ہے، یعنی زمین کی قوتِ کشش (gravity) یا کاسمک ریز (cosmic rays) کی طرح۔ قرآن میں اسماءِ حسنیٰ کا بیان دراصل اسی فلسفیانہ گمراہی کی تردید کے طور پر آیا ہے، نہ کہ اسماءِ الہی کی متعین تعداد کو بتانے کے لیے۔ فلسفے میں یا اُس سے متاثر مذاہب میں خدا کا تصور خالق کے طور پر نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس تصور کے مطابق، تخلیق کے تمام مظاہر خود خدا کا اپنا ظہور ہیں۔ یہ بلاشبہہ ایک مجرد فلسفیانہ قیاس ہے۔ یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ کائنات میں متنوع مظاہر پائے جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ صرف ایک بے بنیاد قیاس ہے کہ ایک ایسا مفروضہ خدا، جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page