دعا اور سپرد دعا
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
دینِ ملوکیت کا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں اسٹیٹ ریلیجن کو ماننا، سیاسی وفاداری کی علامت تھا۔ اسٹیٹ ریلیجن کے خلاف کسی اور ریلیجن کو ماننے والا، اسٹیٹ کا باغی سمجھا جاتا تھا اور اُس کو وہ سزا دی جاتی تھی جوریاست سے بغاوت کے لیے مقرر ہے۔ آج ہم مذہبی آزادی کے ماحول میں جیتے ہیں، لیکن قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک دنیا میں مذہبی جبر (religious persecution) کا نظام رائج تھا۔ یہی وہ پس منظر تھا جس میں فرعون نے آسیہ کے لیے قتل کا حکم دے دیا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اُس وقت آسیہ کی زبان سے یہ دعا نکلی: رَبِّ بْنِ لِی عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ۔ یعنی اے میرے رب، اپنے پاس میرے لیے جنت میں ایک گھر بنادے (11: 66)۔ آسیہ کی اس دعا کو اُس کے پس منظر کی روشنی میں دیکھیے تو گویا کہ آسیہ نے یہ کہا— اے میرے رب، میں نے تیرے لیے دنیا میں بادشاہ کے محل کو چھوڑ دیا، اب تو آخرت کی ابدی دنیا میں میرے لیے اپنے پڑوس میں ایک محل بنادے: I sacrifice my seat in the palace of worldly king, O Lord, give me a better seat in your neighbourhood in the world hereafter. آسیہ بنت مزاحم کی اس دعا کے لیے بعض علما نے درست طور پر کہا کہ: ما احسن ھذا الکلام، یعنی کتنی اچھی ہے یہ دعا (صفوۃ التفاسیر، جلد 3، صفحہ 412)۔ یہ دعا بلا شبہ، ایک تخلیقی دعا تھی۔ آسیہ بنت مزاحم کے سامنے دو چیزوں کے درمیان انتخاب تھا— محل کی زندگی کی خاطر فرعون کے مشرکانہ مذہب پر قائم رہنا، یا خدا کے موحدانہ مذہب کی خاطر سُقَا کا نہ قتل کا سامنا کرنا۔ آسیہ کی معرفت اُس وقت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader