دعا اور سپرد دعا
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
اتنی زیادہ گہری ہو چکی تھی کہ اُس کو یہ فیصلہ کرتے ہوئے ایک لمحے کی دیر نہیں لگی کہ مجھے حق کی خاطر، دنیا کے وقتی محل کو چھوڑ دینا چاہیے اور خدا کی ابدی جنت کو اپنے لیے منتخب کر لینا چاہیے، خواہ اس انتخاب کی قیمت میں مجھے قتل کر دیا جائے یا سولی پر چڑھادیا جائے۔ اِس پورے پس منظر کی روشنی میں دیکھیے تو آسیہ بنت مزاحم کی دعا بلا شبہ ایک سپر دعا تھی اور وہ فوراً ہی قبول ہو گئی۔ روایات میں آیا ہے کہ موت سے پہلے فرشتوں نے آسیہ کو جنت میں اُس کے محل کا مشاہدہ کرایا۔ چناں چہ آسیہ نے اس حال میں جان دی کہ اُس کے چہرے پر اطمینان کی خوشی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ آسیہ بنت مزاحم کی یہ دعا جو قرآن میں نقل کی گئی، وہ محض ایک فرد کی دعا نہیں ہے بلکہ وہ ایک نمائندہ دعا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد کو یہی دعا کرنا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو اِسی مرحلے سے گزرنا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو قربانی کی سطح پر جا کر یہ کہنا ہے کہ ـــ خدایا، میں نے تیرے دین کی خاطر دنیا کی چیزوں کو چھوڑا، تاکہ تو اگلے مرحلہ حیات میں اپنا زیادہ بہتر انعام مجھے عطا فرمائے۔ یہی وہ عورت اور مرد ہیں جن کی بابت یومِ الحساب (Day of Judgement) کے موقع پر یہ اعلان کیا جائے گا کہ انھوں نے خدا کی خاطر دنیا کی عارضی جنت کو چھوڑ دیا تھا، اب اُن کو آخرت کی زیادہ اعلیٰ جنت میں داخل کر دو، تاکہ یہاں وہ ابدی طور پر خوشیوں اور راحتوں کی زندگی گزاریں اور کبھی أکتاہٹ کے احساس کا شکار نہ ہوں۔ اسمِ اعظم ایک زندہ تجربہ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنا، خدا کی توفیق سے ہوتا ہے۔ یہ توفیق صرف اُس انسان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader