Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

دعا اور سپرد دعا

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

ملتی ہے جو اسمِ اعظم کی دعا سے پہلے اسمِ اعظم کی کیفیات میں جی رہا ہو۔ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کا معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں۔ وہ دراصل 'الإناء يترشح بما فيه‘ کا معاملہ ہے، یعنی ایک انسان جو حق کا متلاشی تھا، پھر اُس کو خدا کی صورت میں حق مل گیا اور اُؔس کا وہ حال ہوا جس کی تصویر قرآن میں اِس طرح بیان کی گئی ہے: أوَّ من كان ميتًا فأحييناه، وجعلنا له نوراً يمشي به فی النّاس (123: 6)۔ یعنی وہ شخص جو مردہ تھا، پھر ہم نے اُؔس کو زندگی دی اور ہم نے اُؔس کو ایک روشنی دی کہ اُؔس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے۔ ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ذکر کثیر (الاحزاب: 41) میں جینے لگتا ہے، یعنی ہر وقت خدا کو یاد کرنا، ہر وقت خدا کے بارے میں سوچنا، ہر لمحہ خدا کی تجلّیات کا تجربہ کرنا۔ ایسا انسان گویا کہ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنے کے لیے ایک تیار ذہن (prepared mind) ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی خاص موقع اُس کی زندگی میں پیش آتا ہے تو اُس کے اندر چھپے ہوئے ربانی جذبات ایک طوفان بن کر اُبل پڑتے ہیں۔ اُس وقت وہ مخصوص قسم کے الہامی الفاظ میں خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ ایک تیار ذہن سے نکلنے والی اِسی قسم کی الہامی دعا کا نام اسمِ اعظم کے ساتھ خدا کو پکارنا ہے۔ ایک صالح خاتون کا واقعہ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم خفیہ طور پر حضرت موسیٰ کے دین پر ایمان لائی تھی۔ جب فرعون کو اِس کا علم ہوا تو وہ بہت غصہ ہوا اور اُؔس کے قتل کا فیصلہ صادر کر دیا۔ اُس وقت آسیہ کی زبان سے ایک دعا نکلی جو قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے: ربِّ ابنِ لی عندك بيتاً في الجنة، ونجنی من فرعون

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page