Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

دعا اور سپرد دعا

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

وعمله، ونجنی من القوم الظالمین) (11 :66۔ یعنی اے میرے رب، میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنادے اور مجھ کو فرعون اور اُس کے عمل سے بچالے اور مجھ کو ظالم قوم سے نجات دے۔ یہ دعا ایک ایسی دعا ہے جس کے اندر اسمِ اعظم کی روح پوری طرح موجود ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ آسیہ نے جب یہ دعا کی تو اُس وقت موت سے پہلے اُس کو یہ تجربہ ہوا کہ فرشتوں نے اُس کو آخرت کی دنیا میں ملنے والا جنتی مکان اُس کو دکھا دیا (القرطبی، جلد 18، صفحہ 203)۔ یہ بات یقینی ہے کہ آسیہ کی زبان سے یہ دعا اچانک یا اتفاقاً نہیں نکلی، بلکہ وہ اُس کی پچھلی زندگی کے دوران پیش آنے والے تجربات کا نتیجہ تھی۔ اِس دعا سے پہلے وہ ایک تیار شخصیت بن چکی تھی۔ وہ پہلے ہی سے ذکر اور دعا کے مخصوص لمحات میں جی رہی تھی۔ اِسی کا یہ نتیجہ تھا کہ جب فرعون کی سفّاکی کا معاملہ پیش آیا تو اُس کی زبان سے فطری طور پر مذکورہ قسِم کے ربّانی الفاظ نکل پڑے۔ ایک تاریخی مثال سلطان عبدالرحمن الناصر (وفات: 961ء) اسپین (اندلس) کا ایک مسلم حکمراں تھا۔ اُس نے پچیس سال کی محنت سے قرطبہ کے پاس ایک شان دار محل بنایا۔ یہ محل چار میل لمبی اور تین میل چوڑی زمین میں واقع تھا۔ اِس محل کا نام اس نے الزّہرا رکھا۔ مگر غیر معمولی طور پر بڑا ہونے کی وجہ سے اس کو قصر الزہرا کے بجائے مدینۃ الزہرا کہا جانے لگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page