دعا اور سپرد دعا
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
سلطان عبد الرحمن الناصر کو عمارتوں کا بہت شوق تھا۔ اس نے الزہرا کے نام سے یہ شاہی بستی بسائی اور اس میں شان دار محل تعمیر کیے ۔ ان تعمیرات کے آخری دنوں میں سلطان اتنا مشغول رہا کہ مسلسل تین جمعہ میں وہ مسجد نہ پہنچ سکا ۔ چوتھے جمعہ کو جب سلطان جامع مسجد پہنچا تو اس کی موجودگی میں قاضی منذر (وفات: 966ء) نے جو خطبہ دیا ، اُس میں نام لیے بغیر سلطان پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ قاضی منذر نے ایسی آیتیں پڑھیں جن میں دنیا میں عمارتیں کھڑی کرنے اور آخرت سے غافل ہو جانے پر وعیدیں تھیں۔ مثلاً کیا تم ہر بلندی پر عبث یادگاریں تعمیر کرتے ہو اور شان دار محل بناتے ہو کو یا کہ تم کو ہمیشہ اسی دنیا میں رہنا ہے۔ اور جب تم کسی پر حملہ کرتے ہو تو جبارانہ حملہ کرتے ہو۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو (128-131 :26)، تمھارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو، یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات گھر پر اٹھائی اور وہ عمارت اُس کو لے کر جہنم کی آگ میں جاگری۔ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔ یہ عمارت جوانھوں نے بنائی ہے ، ہمیشہ اُن کے دلوں میں بے یقینی کی جڑ بنی رہے گی ، یہاں تک کہ اُن کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں ۔ اور اللہ علیم اور حکیم ہے (110-109: 9)۔ اسی طرح قاضی منذر نے اِس مضمون کی بہت سی حدیثیں سنائیں اور ان کی تشریح کی ۔ اپنے خطبے میں اگر چہ انھوں نے سلطان کا نام نہیں لیا ، مگر مسجد کا ہر نمازی سمجھ رہا تھا کہ ان سخت تنقیدوں کا مخاطب کون ہے اور وہ کس کے اوپر پڑ رہی ہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader