دعا اور سپرد دعا
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
تنقید، یوں بھی آدمی کے اوپر بہت سخت ہوتی ہے اور جب مجمع عام میں کسی پر تنقید کی جائے تو وہ اور بھی زیادہ ناگواری کا باعث ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ تنقید ایک ماتحت کی زبان سے اپنے حاکم کے اوپر تھی۔ اور جب کوئی حاکم اپنے ماتحت کو تنقید کرتے ہوئے سنتا ہے تو اس پر کبر کا سخت دورہ پڑتا ہے۔ بڑے بڑے شریف اور دین دار لوگ بھی اُس وقت قابو سے باہر ہو جاتے ہیں، مگر سلطان نے حد درجہ ضبط سے کام لیا۔ اگرچہ سلطان پر اس تنقید کا بہت زیادہ اثر تھا، مگر وہ مسجد میں کچھ نہ بولا اور نماز کے بعد خاموشی سے اٹھ کر باہر آ گیا۔ گھر پہنچ کر سلطان نے اپنے لڑکے الحکم سے کہا کہ آج قاضی مندر نے مجھ کو بہت سخت تکلیف دی۔ اب میں نے طے کر لیا ہے کہ میں اُن کے پیچھے کبھی جمعہ کی نماز نہیں پڑھوں گا۔ الحکم نے کہا: قاضی مندر کا امام ہونا یا نہ ہونا آپ کے اختیار میں ہے، آپ اُن کو معزول کر دیجیے اور اُن کی جگہ دوسرا کوئی امام مقرر کر دیجیے، جو ایسی گستاخی نہ کرے۔ یہ سن کر سلطان غصے میں آ گیا۔ اُس نے اپنے لڑکے کو ڈانٹ کر کہا: تمھارا بُرا ہو، ایک شخص جو ہدایت سے دور ہے اور راستے سے بھٹکا ہوا ہے، کیا اُس کی خوشی کی خاطر قاضی مندر جیسے خوبیوں والے آدمی کو معزول کر دیا جائے گا۔ یہ بات کبھی نہیں ہوسکتی (هذا مالايكون)۔ مجھے اُن کی باتوں سے چوٹ لگی، اس لیے میں نے اُن کے پیچھے جمعہ نہ پڑھنے کی قسم کھالی۔ میری خواہش ہے کہ اس قسم کے کفارے کی کوئی صورت نکل آئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader