دعا اور سپرد دعا
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
تاہم قاضی منذر ہماری زندگی میں اور اپنی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں گے (بل یصلّی بالناس حياتنا و حياته إن شاء الله تعالیٰ)، چناں چہ قاضی منذر بدستور جمعہ کی نماز پڑھاتے رہے۔ عبد الرحمن الناصر کے انتقال کے بعد اُس کے لڑکے نے بھی اُن کے مقام کو اُسی طرح باقی رکھا۔ اوپر جس واقعے کا ذکر ہوا، اُس میں بہت بڑا سبق ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی انسان کی وہ مطلوب صفات کیا ہیں، جواگر کسی کے اندر ہوں تو اُس کو یہ خوش قسمتی حاصل ہوتی ہے کہ وہ خدا سے ایسی دعا کر سکے جس کو اسمِ اعظم کے ساتھ کی جانے والی دعا کہا جاتا ہے۔ اسمِ اعظم کے ساتھ دعامیں اگر پچاس فی صداسمِ اعظم کا حصہ ہے تو پچاس فی صد خود دعا کرنے والے کی ربانی استعداد کا حصہ ہے۔ یہ ربانی استعداد قاضی منذر اور سلطان عبد الرحمن دونوں کے اندر کم وبیش موجود تھی، اِس لیے اُن کے ساتھ ایک عظیم دعا کی تاریخ شامل ہوگئی۔ حسب ذیل واقعہ اِس معاملے میں ایک چشم کشا مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ بارش شروع ہوگئی سلطان عبدالرحمن الناصر کے زمانے میں ایک بار اسپین میں قحط پڑا۔ بہت سخت حالات پیدا ہو گئے۔ سلطان نے اپنا ایک خاص آدمی قاضی منذر کے پاس بھیجا اور درخواست کی کہ آپ استسقاء کی نماز پڑھائیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بارش برسائے۔ قاضی منذر نے سلطان کے قاصد سے پوچھا کہ سلطان نے میرے پاس دعا کا پیغام بھیجا ہے مگر وہ خود کیا کر رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader