دعا اور سپرد دعا
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
قاصد نے کہا: آج سے زیادہ ہم نے کبھی ان کو اللہ سے ڈرنے والا نہیں پایا۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ حیران و پریشان ہیں۔ تنہائی میں پڑے ہوئے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ وہ مٹی کے فرش پر سجدے میں گرے ہوئے تھے۔ اُن کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر رہے تھے اور اللہ سے کہہ رہے تھے: خدایا، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے۔ کیا تو میرے گناہوں کی وجہ سے لوگوں کو عذاب دے گا، حالاں کہ تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (هذه ناصيتي بيدک، أتراك تعذب بي الرّعيّة، وأنت أرحم الراحمين) یہ سن کر قاضی منذر کے چہرے پر اطمینان ظاہر ہوگیا۔ انھوں نے قاصد سے کہا: اپنے ساتھ بارش لے کر واپس جاؤ، اب ضرور بارش ہوگی۔ کیوں کہ زمین کا حاکم جب تضرع کرتا ہے تو آسمان کا حاکم ضرور رحم فرماتا ہے (إذا خشع جبار الأرض، رحم جبار السماء) چناں چہ ایسا ہی ہوا۔ قاصد واپس ہو کر گھر پہنچا تھا کہ بارش شروع ہوگئی (الكامل في التاريخ، جلد 8 ، صفحہ 675)۔ زمین پر خشک سالی اس لیے آتی ہے، تاکہ آنکھوں کی خشک سالی ختم ہو۔ آسمان پر بادل اس لیے گرجتے ہیں، تاکہ لوگوں کے دل خدا کے خوف سے دھلیں۔ گرمی کی شدت اس لیے ہوتی ہے، تاکہ لوگ جہنم کی آگ کو یاد کر کے تڑپ اٹھیں۔ اس طرح کے واقعات کا نہایت گہرا تعلق، اسماء حسنیٰ اور اسمِ اعظم کے معاملے سے ہے۔ یہی وہ واقعات ہیں جو انسان کے اندر ربانی کیفیات کی پرورش کرتے ہیں، اور جس سینے کے اندر ربانی کیفیات کا یہ چشمہ جاری ہو جائے، وہی وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader