دعا اور سپرد دعا
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان ہے جس کو اسماء حسنیٰ کی معرفت ہوتی ہے اور اُسی کو یہ توفیق ملتی ہے کہ وہ اسمِ اعظم کے ساتھ خدا وندِ عالم کو پکارے اور اُس کی پکار ضرور سنی جائے۔ ذاتی تجربات خدا کے فضل سے مجھ کو اس قسم کے تجربے بار بار پیش آئے ہیں۔ مثال کے طور پر 30 دسمبر 2006 کو میں اپنی ٹیم (سی پی ایس) کے کچھ افراد کے ساتھ نئی دہلی کے لودھی گارڈن میں گیا۔ یہ گویا کہ ہماری اسپرچول آؤٹنگ (spiritual outing) تھی۔ اس موقع پر میرے دل سے ایک دعا نکلی، جو میری فہم کے مطابق، اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کی ایک مثال ہے۔ جب ہم لوگ لودھی گارڈن کے اندر پہنچ گئے تو میں نے اپنی ٹیم کے افراد سے پوچھا کہ آپ لوگ جب یہاں پہنچے تو آپ کا پہلا احساس کیا تھا۔ لوگوں نے مختلف انداز سے اپنے اپنے تجربے بتائے۔ پھر میں نے کہا کہ جب میں اس خوب صورت گارڈن کے اندر داخل ہوا تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ میں جنت کو دور سے دیکھ رہا ہوں ۔ یہ خوب صورت گارڈن میرے لیے جنت کا ایک بعید تعارف بن گیا۔ میں نے اشک بار آنسوؤں کے ساتھ کہا کہ خدایا، تو نے مجھے ناقص جنت میں پہنچا دیا، اب تو اپنی رحمت سے مجھے کامل جنت میں بھی داخل کر دے۔ میں نے کہا کہ خدایا، میں اور میرے ساتھی، پوری انسانی تاریخ میں، جنت کے لیے سب سے زیادہ غیر مستحق لوگ (least deseving candidates) ہیں۔ اگر تو ہمارے کامل عدم استحقاق کے با وجود ہم کو اپنی جنت میں داخل کر دے تو یہ واقعہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader