Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

خدا کے نام میں الحاد

Urdu book, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر قسم کی صفات سے کلی طور پر خالی ہو، وہ متنوع تخلیقات کی صورت میں ظاہر ہو جائے۔ اس قسم کے تضادات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا کا مذکورہ تصور محض ایک فلسفیانہ قیاس ہے، اُس کے حق میں کوئی علمی بنیاد موجود نہیں۔ سائنسی مطالعہ موجودہ زمانے میں فطرت کے سائنسی مطالعے کے بعد خدا کے متعلق یہ فلسفیانہ تصور عملاً بے اصل ثابت ہو چکا ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنسی مطالعے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ کائنات کے اندر کمال درجے میں معنویت (meaning) پائی جاتی ہے۔ اس قسم کی معنویت اِس کے بغیر ممکن نہیں کہ اُس کا خالق ایک ذہن (mind) ہو۔ چناں چہ سائنس میں خدا کا نام نہ لیتے ہوئے یہ مان لیا گیا ہے کہ کائنات کو وجود میں لانے والا ایک ذہین نقّاش (intelligent designer) ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ماہ نامہ الرسالہ، ستمبر 2007، سائنس اور الہیات)۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں ایک ایسے خدا کا تصور پیدائشی طور پر موجود ہے، جو متنوع صفات کا حامل ہو۔ اس طرح سائنسی مطالعے میں کائنات اگر چہ آخری طور پر ایک ہی یونٹ (atom) کا مختلف ظہور ہے، لیکن یہ ایٹم حیرت انگیز طور پر مختلف اور متضاد قسم کی بامعنی چیزوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ انسانی فطرت اور خارجی کائنات، دونوں اِس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ کائنات میں ایک طرف بہت زیادہ اختلاف اور تنوع ہے اور دوسری طرف کائنات کے مختلف اجزا میں غیر معمولی ہم آہنگی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page