Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

دعا اور سپرد دعا

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

گفتگو کے دوران پروفیسر مجیب نے خاص انداز میں مجھ سے کہا: مولوی صاحب، آپ جانتے ہیں کہ اس زمانے میں اسلام کی نمائندگی یہودی اسکالر کر رہے ہیں۔ اُن کا مطلب یہ تھا کہ موجودہ زمانے میں ایک نیا اسلوب تحریر پیدا ہوا ہے۔ اس اسلوب تحریر میں، مسلم علما اسلامی لٹریچر تیار نہ کر سکے۔ البتہ تعلیم یافتہ یہودیوں نے یہ کام کیا۔ انھوں نے وقت کے جدید اسلوب میں اسلام کے مختلف موضوعات پر کتابیں لکھیں۔ ان کتابوں میں اگر چہ اسلام کی تعلیمات کو بگڑی ہوئی صورت میں پیش کیا گیا ہے، لیکن اسلوب تحریر کے اعتبار سے وہ وقت کے اسلوب میں ہیں۔ اس لیے آج جو تعلیم یافتہ لوگ انگریزی زبان میں اسلام کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، وہ اکثراً نھیں یہودی علما کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ میں پروفیسر مجیب کی باتوں کو سنتا رہا۔ میں نے ان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا، لیکن اُن کی بات کو سن کر میرے دماغ میں ایک بھونچال آگیا۔ میں خاموشی کے ساتھ واپس آگیا اور پھر رات دن یہ دعا کرنے لگا کہ خدایا، مجھے توفیق دیجیے کہ میں آپ کے دین کو آج کے اسلوب میں دنیا کے سامنے پیش کر سکوں، میں عصری اسلوب میں اسلام کا لٹریچر تیار کر سکوں۔ میں اکثر کسی واقعے کا حوالہ دے کر دعا کرتا ہوں ۔ اس معاملے میں بھی میں نے ایسا ہی کیا۔ اصل یہ ہے کہ آزادی کے بعد یوپی میں خاتمہ زمین داری کا قانون (zamindari abolition act) نافذ ہوا۔ نیشنل گورنمنٹ کے تحت، یہ قانون اِس اصول پر مبنی تھا کہ ــــ جو جوتے، اُس کا کھیت۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page